ْ بجٹ میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبے کو پھر نظر انداز کردیا گیا ،صرف 2 ارب 70 کروڑ روپے مختص

گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں محض 87 کروڑ روپے ز ائد رقم ہے ، وزارت نے مختلف منصوبوں کیلئے حکومت سے 7ارب44کرو ڑ کا مطالبہ کیا تھا

ہفتہ اپریل 21:47

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) حکومت نے گزشتہ برسوں کی طرح آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بھی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبے کو نظر انداز کیا ہے ، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ادارے کیلئے صرف 2 ارب 70 کروڑ روپے مختص کیے جو کہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں محض 87 کروڑ روپے ز ائد ہے جبکہ وزارت نے مختلف منصوبوں کیلئے حکومت سے 7ارب44کروڑ روپے فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

وزارتِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو سائنس ٹیلنٹ فریمنگ اسکیم فار ینگ اسٹوڈنٹ منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے 41 کروڑ22 لاکھ روپے درکار ہیں جبکہ پرزیڑن میکینکس پروگرام کے تحت جاری 20 چھوڑے بڑے منصوبوں کی تکیمل کے لیے 66 کروڑ 40 لاکھ روپے کی ضرورت ہے جبکہ حکومت نے صرف 87 کروڑ روپے اضافی مختص کیے۔

(جاری ہے)

دوسری جانب وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے حکومت سے ایک درجن سے زائد منصوبوں کے لیے 7 ارب 44 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا ہے۔

ان منصوبوں میں نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی،، پاک کوریا ٹیسٹنگ لیب فار سولر اور پاکستان نیشنل ایکریڈیٹیشن کونسل فار ڈیجٹیل ایکریڈیٹیشن سمیت دیگر سائنٹیفک لیب کی اپ گریڈیشن شامل ہے۔وزارت کو نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کی تعمیر کے لیے 3 ارب روپے جبکہ کمپیٹیٹو ریسرچ پروگرام کی تکمیل کے لیے 2 ارب روپے درکار ہیں۔وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ایک عہدیدار کے مطابق حکومت کے لیے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کوئی خاص شعبہ نہیں اور اسی وجہ سے بجٹ میں کوئی خاص رقم مختص نہیں کیا جاتی جس کے نتیجے میں سائنسٹیفک رسرچ کے میدان میں ملک کا شمار عالمی رینکنگ کیاعتبار سے انتہائی کم درجے پر ہوتا ہے حکام کے مطابق ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے فنڈز کمی کا آغاز 08-2007 سے ہوا جس کے بعد سائنٹیفک ریسرچ کے متعدد منصوبے متاثر ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے شبعے میں عدم دلچسپی کے باعث متعدد منصوبے اپنے درمیانی مدت میں ہی بند ہوگئے جبکہ سائنس دان بہت محنت کررہے تھے، جس کے بعد سائنسی ماہرین نے بیرونی ملک کا رخ کیا اور بعض اندورن ملک میں سے ہی ملنے والے بہتر مواقع کی طرف راغب ہو گئے۔اس حوالے سے عہدیدار کا کہنا تھا کہ پاکستان کونسل فار ریسرچ ان واٹر ریسورسز، پاکستان کونسل فار رینیوایبل انرجی ٹیکنالوجیز اور پاکستان کونسل فار سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ سمیت دیگر 16 شعبہ جات کو فنڈز کی کمی کا سامنا ہے ۔

واضح رہے کہ وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی رانا تنویر حسین نے گزشتہ سال اعتراف کیا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکمراں جماعت کے نزدیک سائنسٹیفک ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ ترجیحات میںشامل نہیں ہے۔۔۔اعجاز خان

متعلقہ عنوان :