مقبوضہ کشمیر، سید علی گیلانی اور دیگر حریت رہنمائوںکا کہیں بھی جانے کے لیے آزادہونے کاپولیس کا دعویٰ کہاںگیا

اتوار اپریل 12:50

سرینگر۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ بھارتی پولیس کے اس دعوے کا کیا ہوا جس میں اس نے کہا تھا کہ کانفرنس کے علیل چیئرمین سید علی گیلانی اور دیگر حریت رہنماکہیں بھی آنے جانے کے لیے آزاد ہیں۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق حریت کانفرنس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ مزاحمتی رہنمائوں کی پرامن سیاسی سرگرمیوںپر پابندی اور مذہبی فرائض کی ادائیگی سے روکنے کا کوئی آئینی یا اخلاقی جواز نہیں ہے۔

بیان میںکہا گیاکہ سید علی گیلانی کی رہائشگاہ کو سب جیل میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ یہ بیان سید علی گیلانی کے نماز جمعہ ادا کرنے پر پابندی کے بعد سامنے آیاہے۔ بیان میں مزاحمتی قیادت کے دیگر رہنمائوںمیرواعظ عمرفاروق اور محمد یاسین ملک کا بھی ذکر ہے جن کو بھی مذہبی فرائض کی ادائیگی سے روکا جا رہا ہے جو مداخلت فی الدین ہے۔

(جاری ہے)

بھارتی حکام نے گزشتہ ماہ جونہی سید علی گیلانی کی نقل وحرکت پر پابندی ہٹادی انہوںنے مقامی مسجد میں لوگوں سے خطاب کیااور بھارت کو کشمیر میں اس کی عارضی حکمرانی کے بارے میں بتایا۔

ایک ہفتہ سے پہلے ہی سید علی گیلانی ،میر واعظ عمرفاروق اور محمد یاسین ملک کو جنوبی کشمیر میں 17نوجوانوں کے اہلخانہ سے جن کو بھارتی فوجیوں نے یکم اپریل کوفائرنگ کرکے شہید کیا تھا، اظہار یکجہتی سے روکنے کے لیے دوبارہ گھروں میں نظربند کیا گیا۔ سید علی گیلانی کی رہائشگاہ کے باہر آج بھی سی آر پی ایف اہلکاروں کا ایک موبائل بنکرہروقت کھڑا رہتا ہے جو ان کو نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے بھی باہر نہیں آنے دیتے ہیں۔ ایک سینئر حریت رہنما نے کہاکہ سید علی گیلانی اور دیگر رہنمائوں کے آنے جانے کے لیے آزاد ہونے کا پولیس کا دعویٰ محض جھوٹ کا پلند ہ ہے۔