گیارہ نکات پیش کرنے والے خود نو دو گیارہ ہوجائیں گے،حافظ حسین احمد

خدشہ ہے نگرانوں کی نگرانی کا دورانیہ بڑھ سکتا ہے،رہنما متحدہ مجلس عمل

پیر اپریل 15:40

جیکب آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) متحدہ مجلس عمل کی رابطہ کمیٹی سربراہ اور جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ گیارہ نکات پیش کرنے والے خود نو دو گیارہ ہوجائیں گے، تمام پارٹیاں ایک نکاتی ایجنڈا’’اقتدارحاصل کرو‘‘ پر عمل پیرا ہیں، خدشہ ہے کہ نگرانوں کی نگرانی کا دورانیہ بڑھ سکتا ہے، شریف کے احتسا ب کے بعد مشرف اپنے احتساب کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہوچکے ہیں۔

ان خیالات کا اظہا ر انہوں نے ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ ڈاکٹر ابوالخیر زبیر سے بات چیت اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ سیاسی پارٹیاں نکات اور منشور تو پیش کرتی ہیں لیکن بعد میں وہ خود نو دو گیارہ ہوجاتی ہیں منشور اور نکات پیش کرنا اب فیشن ہوچکا ہے تمام پارٹیوں کا ایک نکاتی ایجنڈا رہ گیا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طریقے سے اقتدار تک پہنچ جائیں اس کے بعد یہ نکات ختم ہوجاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اللہ نہ کرے نگرانوں کی نگرانی کا دورانیہ بڑھ جائے کیوں کہ ملک میں مطلع نگرانوں کی نگرانی میں صاف ہوگا اب صفائی میں کتنی دیر لگے گی وہ احتسابی موسم پر منحصر ہے کیوں کہ دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کرپیتا ہے اس لیے سینٹ الیکشن کی طرح آخری مرحلے تک غیر یقینی کی صورتحال قائم رہے گی، انہوں نے کہا کہ شریف کے احتساب کے بعد مشرف بھی اپنے احتساب کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہوچکے ہیں اور اب وہ وقت آگیا ہے کہ نواز شریف جہانگیر ترین کی طرح شریف اور مشرف دونوں کو بیلنس کیا جائے اور اس کا ادراک مشرف کو بھی ہوچکا ہے اس لیے لوگ یہاں سے حالات کا مقابلہ کرنے کے بجائے دبئی جاکر بیٹھ جاتے ہیں مشرف کو اب دبئی سے واپسی مشکل نظر آرہی ہے کیوں کہ اسے پتہ ہے کہ پاکستان آنے کے بعد دبئی واپسی مشکل ہوگی ویسے اقامہ مشرف کا بھی ہے، متحدہ مجلس عمل کی رابطہ کمیٹی کے سربراہ حافظ حسین احمد اور ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ ڈاکٹر ابو الخیر زبیر کے درمیان امت کے اتحاد و یکجہتی کے متعلق گفتگو ہوئی اور دونوں رہنماؤں نے فرد واحد اور ایک خاندان کو بچانے کے لیے تمام اداروں کو داؤ پر لگانے کی مذمت کی، اس موقع پر ڈاکٹر ابوالخیر زبیر نے کہا کہ کاش نواز شریف اپنے دور میں عوام کے ووٹوں سے منتخب پارلیمنٹ کو اہمیت دیتے یا کم از کم اپنے ہی نامزد وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو ہی بخش دیتے مگر وہ اپنے خاندان کو بچانے کے لیے آخری حد تک جانے کا فیصلہ کرچکے ہیں انہوں نے حافظ حسین احمد کو مولانا سمیع الحق سے ملاقات کے بارے میں آگاہ کیا جبکہ ایم ایم اے کی رابطہ کمیٹی کے سربراہ حافظ حسین احمد نے مشائخ عظام اور ملی یکجہتی کونسل میں شامل جماعتوں کے رہنماؤں سے اپنی ہونے والی ملاقاتوں سے آگاہ کیا،دونوں رہنماؤں نے مزید بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔