اسٹنٹس خریداری خردبرد ریفرنس کی سماعت، کونسل کی استدعا پر گواہ استغاثہ کا بیان قلم بند نہ ہوسکا

پیر اپریل 23:27

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) احتساب عدالت کوئٹہ ون کے جج منور احمد شاہوانی نے امراض قلب کے مریضوں کیلئے اسٹنٹس کی خریداری کی مد میں خوردبرد سے متعلق ریفرنس کی سماعت کی ۔گزشتہ روز ریفرنس کی سماعت شروع ہوئی تو اس میں نامزد ملزمان امراض قلب کے سابق سربراہ ڈاکٹر عابد امین ، ایڈیشنل ڈائریکٹر ایم ایس ڈی محمد یوسف بزنجو ، سابق ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز بلوچستان ڈاکٹر مسعود قادر نوشیروانی ، سابق ڈائریکٹرز ( لاجیسٹکس) ہیلتھ سروسز بلوچستان ڈاکٹر عیسیٰ خان جوگیزئی ، ڈاکٹر عطاء محمد ، سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر ایم ایس ڈی ڈاکٹر عبدالغفار کیانی ، اسسٹنٹ پروفیسر میڈیسن ڈیپارٹمنٹ بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال بلوچستان ڈاکٹر سعید احمد ، اسسٹنٹ پروفیسر سرجری ڈیپارٹمنٹ بی ایم سی ڈاکٹر شعیب احمد قریشی ، اسسٹنٹ پروفیسر میڈیسن ڈیپارٹمنٹ بی ایم سی ڈاکٹر بشیر اللہ ، فارماسسٹ میڈیکل سٹور ڈیپارٹمنٹ کوئٹہ رحمت اللہ خان ، فارماسسٹ میڈیکل سٹور ڈیپارٹمنٹ سیف الرحمن ، سابق ایگزیکٹیو آفیسر ہیلتھ ٹیک ڈاکٹر نوشیروان یار خان اور چیف آپریٹنگ آفیسر احمد علی اسلم اور گواہ استغاثہ شیر محمد عدالت کے روبرو پیش ہوئے تاہم کونسل کی استدعا پر گواہ استغاثہ کا بیان قلم بند نہ کیاجاسکاجس کے بعد ریفرنس کی سماعت 14مئی تک کیلئے ملتوی کردی ۔

(جاری ہے)

ملزمان پر اسٹنٹس کی خریداری میں قومی خزانے کو کروڑوں روپے نقصان پہنچانے کاالزام ہے ۔