ایمنسٹی سکیم کو مالیاتی بل کا حصہ بنانا غلط فیصلہ ہو گا، ودہولڈنگ ٹیکس عوام پر بلا جواز ہے، الیاس احمد بلور

پیر اپریل 23:38

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کے زیراہتمام بجٹ2018-19 ء کے جائزہ و تجزیہ کے موضوع پر مباحثہ ہوا جس میں سابق سینیٹر و سابق صدر وفاق ایوان ہائے تجارت و صنعت الیاس بلور، سابق چیف اکانومسٹ آف پاکستان ڈاکٹر پرویز طاہر، ایس ڈی پی آئی کے سر براہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری اور نائب سربراہ ڈاکٹر وقار احمد نے وفاقی حکومت کی طرف سے پیش کردہ بجٹ 2018-19ء پر ماہرانہ جائزہ اور تجزیہ پیش کیا ۔

اس موقع پر الیاس بلور نے کہا کہ ایمنسٹی سکیم کو مالیاتی بل کا حصہ بنائے جانے کا فیصلہ غلط اقدام ثابت ہو گا۔ پوری دنیا میں ایسا نہیں کیا جاتا جو یہاں ہو رہا ہے۔ ہم اپنی کرنسی کی قدر کھو رہے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 فیصد لیوی بہت زیادہ ہے، جو کہ روز مرہ معمولات پر اضافی بوجھ کا سبب بنے گا۔

(جاری ہے)

سابق سینیٹر الیاس بلور نے کہا کہ خیبر پختونخوا افغانستان کی برآمد پر چل رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا بجٹ میں ٹیکسوں کے ذریعے تجارت پیشہ طبقہ پر مزید بلواسطہ دباؤ ڈالا گیا ہے۔ جس کا نقصان براہ راست عوام کو ہو گا ۔ اسی طرح ود ہولڈنگ ٹیکس کا بوجھ بلا جواز ہے جو کہ عوام اور معیشت پر یکساں ہے۔ انہوں نے بجٹ کو ایک بہترین دستاویز قرار دیتے ہوئے کہا کہ کاریگری کا نادر نمونہ ہے الیاس بلور نے کے پی میں ’’بلین ٹری‘‘ کے حوالے سے کہا اس منصوبے میں انتہائی بے ضابطگی کی گئی جس کے اثرات ملک اور عوام پرہی نہیں بلکہ ماحول کو خوشگوار بنانے میں مدد نہیںکر سکے گا۔

مباحثہ میں گفتگو کرتے ہوئے سابق چیف اکانومسٹ ڈاکٹر پرویز طاہر نے کہا کہ خسارے کے بجٹ میں شرح ترقی کو 5.7 فیصدپر رکھنا آنے والی حکومت کے لئے بہت بڑا امتحان ہو گا۔اس شرح ترقی کو محفوظ بنانے کے لئے خصوصی اقدامات اٹھانے ہو ں گے۔ ڈاکٹر پرویز نے ایف بی آر کے حوالے سے کہا کہ اس کے ڈھانچے کو از سر نو درست کرنے کی اشد ضرورت ہے،اگر اس کے اخراجات اور وصولی میں توازن ہی نہیں ہے تو ملک کی معیشت میں معاون کار کیسے ہو سکتا ہی ڈاکٹر پرویز نے بجٹ پر تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسی ایمنسٹی سکیم نے ماضی میں بھی کوئی سہارا نہیں دیا بلکہ غریب مزید غریب تر ہو ا انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر کی وجہ سے پاکستان شدید دباؤ کا شکار ہے۔

اپنے وسائل سے قرضوں کی ادائیگی کرنا پڑے گی وگرنہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہو گا۔ وفاقی حکومت نے عالمی اہداف SDGs کے لئے کوئی رقم مختص نہیں کی جبکہ ماضی میں اراکین اسمبلی کے ذریعے بھی ان اہداف پر کام ہوا۔ ڈاکٹر پرویز نے ایک تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کی طرف جانے کی بجائے اپنے اخراجات میں کمی کرنی چاہئے اگر ایسا نہ کیا گیا تو پی ایس ڈی پی اور پاک چین راہداری جیسے منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔

بجٹ2018-19 ء پر اپنا تجزیہ اور جائزہ پیش کرتے ہوئے اس ڈی پی آئی کے سر براہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے بجٹ میں اخراجات کے شعبہ کے متعلق کہا پاکستان میں جی ڈی پی کی شرح کو ناپنے جانچنے کے پیمانے درست نہیںہیں بلکہ اس کو مزید زاویوں سے جانچا جانا چاہئے تا کہ ترقی کا درست جائزہ کیا جا سکے۔ جہاں کریم (Careem) اوبر(Uber)اور زمین (Zameen.com) جیسی سروسز ہوں, ان کو بھی اس میں شامل کرنا چاہئے۔

یہ بجٹ روایتی بجٹ سے بہت مختلف ہے اس پر تنقید یا تعریف کرنے سے پہلے اچھی طرح اس کا جائزہ لینا چاہئے۔ایس ڈی پی آئی کے نائب سر براہ ڈاکٹر وقار احمد نے بجٹ کے محصولات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاک چائنہ معاشی راہداری کے تناظر میں معیشت میں بہتری کی علامات وضع ہونا شروع ہو چکی ہیں۔ گذشتہ عرصہ میں برآمدات میں بھی بہتری آئی ہے۔ٹیکس کے نظام کی خامیوں کو بجٹ میں دور کرنا ممکن ہو سکتا ہے ود ہولڈنگ ٹیکس کا کوئی جواز نہیں ہے ۔

کارپوریٹ ٹیکس کو آسان بنانے کی ضرورت ہے اسی طرح کسٹم اور دیگر ریگولیٹری محصولات میں بہتری لانے کی اشد ضرورت ہے اور یہ قوانین میں ترجیح کے بنا ممکن نہیں ہے۔ ڈاکٹر وقار نے مزید کہا کہ پاکستان کی معیشت کے درست سمت میں لے کر جانے کے لئے سنجیدگی سے از سر نو جائزہ لے کر بہتر تجاویز شامل کرنا ہو ںگی۔ اس کو دیر پا کرنے کیلئے تمام شعبہ جات کو مشارت میںتسلسل رکھتے ہوئے باہمی اعتماد سازی کے خصوسی اقدامات اُٹھا نا ہوں گے۔