موبائل و انٹر نیٹ آلات کی مینو فیکچرنگ پر توجہ دی جائے، میاں زاہد

پیر اپریل 23:49

موبائل و انٹر نیٹ آلات کی مینو فیکچرنگ پر توجہ دی جائے، میاں زاہد
کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کا ٹیلی کام سیکٹر انتہائی منافع بخش ہونے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کی بہتری میں قابل قدر حصہ ادا کررہا ہے، موبائل اور انٹرنیٹ آلات کی مینوفیکچرنگ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ اس سیکٹرکی درآمدات میں کمی کے ذریعے سے بیلنس آف ٹریڈ کومثبت کیا جاسکے۔

ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے مطابق گزشتہ سال صرف ٹیلی کام سیکٹر کا ریونیو 170ارب روپے تھا۔ ایف بی آر ذرائع کے مطابق گزشتہ پانچ سالوں میں ٹیلی کام سیکٹر نے حکومت کوٹیکسز اور دیگر سروسز کی مد ساڑھے چار ارب سے زیادہ کی ادائیگی کی۔

(جاری ہے)

پاکستان میں 15کروڑ افراد موبائل فون استعمال کررہے ہیںلیکن پی ٹی اے کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی موبائیل کمپنی(یوفون) کا مارکیٹ شیئر سب سے کم ہے جو قابل فکر ہے۔

پاکستان میںموبائل سروسز فراہم کرنے والے ٹیلی کام اداروں کو بڑھتے ہوئے کسٹمر ز کو مد نظر رکھتے ہوئے سروسز کی بہتری پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے، اس سے نہ صرف موبائل کسٹمرز کے اطمینان میں اضافہ ہوگا بلکہ معیشت کے اس نفع بخش سیکٹر کے ریونیو میںمزید اضافہ ہوگا۔موبائل فونز کو تعلیم کے لئے استعمال کیا جائے اور اسٹوڈنٹس کے لئے سستے پیکیجز متعارف کرائے جائیں۔موبائل مینوفیکچرنگ کے حوالے سے نومبر2017میں پانچ کمپنیوں نے پاکستان میں اسمبلی لائن کے سیٹ اپ کے لئے پی ٹی اے کو درخواست دی ہے جس سے پاکستان میں موبائل کا بیرونی سرمایہ کاری کو بڑھانے والی صنعت ترقی کرے گی۔