پاکستان نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان میں اضافے کی مخالفت کردی

سلامتی کونسل میں مستقل ارکان کو بڑھانے سے کونسل کے نظام کوتباہ کردے گا،ملیحہ لودھی

بدھ مئی 22:04

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل میں مستقل ارکان کو بڑھانے سے کونسل کے نظام کوتباہ کردے گا۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان میں اضافے کی مخالفت کردی ہے، اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ یہ عمل کونسل کو خراب کردے گا۔

گزشتہ روز اقوام متحدہ میں بین الحکومتی مذاکرہ منعقد ہوا۔ جس میں پاکستان اور اٹلی کی زیر قیادت گروپ نے سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے اضافے کرنے کی سختی سے مخالفت کردی۔ جبکہ بھارت ، برازیل ، جاپان، اور جرمنی نے سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی تعداد بڑھا کر10تک لے جانے پر زور دیا۔ ملیحہ لودھی نے بین الحکومتی مذاکرے سے خطاب ہوئے تجویز پیش کی کہ عالمی ادارے (سلامتی کونسل ) کی ساکھ اور قانونی حیثیت کو مزید بہتر بنانے کیلئے ’منتخب‘ ارکان میں اضافہ کرنا ہوگا، لیکن ’مستقل‘ ارکان میں اضافہ سلامتی کونسل کی کارکردگی کو تباہ کردے گا، انہوںنے کہا کہ بعض ممالک کے پورے خطے کی نمائندگی کے دعوے بے بنیاد ہیں۔

(جاری ہے)

مستقل ارکان میں اضافہ سلامتی کونسل کی غیر فعال بنائے گا اور اسکی وجہ سے زیادہ مسائل پیدا ہوسکتے ہیں ۔ واضح رہے کہ سلامتی کونسل کے رکن ممالک کی تعداد 15 ہے جن میں سے 5 مستقل اراکین جب کہ 10 منتخب ارکان ہوتے ہیں۔ 5 مستقل اراکین میں امریکا، چین،، برطانیہ،، فرانس اور روس شامل ہیں جنہیں ویٹو پاور حاصل ہے جس کے ذریعے وہ کسی بھی فیصلے اور قراداد کو مسترد کرسکتے ہیں۔ موجودہ حالات میں بھارت،، جاپان، جرمنی اور برازیل سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت حاصل کرنے کے لیے کوششیں کررہے ہیں۔جس کے معاملے میں پاکستان نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اٹلی نے پاکستان کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے اس کی مخالفت کی ہے ۔ شمیم محمود