ملک میں خوف کی فضاء طاری ہے، تکلیف دہ اور شرمندگی کا سامنا ہے، بولنے کا حق سلب کیا جا رہا ہے، آواز کا گلہ گھونٹا جا رہا ہے

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کا سینیٹ میں خطاب

جمعہ مئی 18:31

ملک میں خوف کی فضاء طاری ہے، تکلیف دہ اور شرمندگی کا سامنا ہے، بولنے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملک میں خوف کی فضاء طاری ہے، تکلیف دہ اور شرمندگی کا سامنا ہے، بولنے کا حق سلب کیا جا رہا ہے، آواز کا گلہ گھونٹا جا رہا ہے۔وہ جمعہ کو سینیٹ میں خطاب کر رہی تھیں۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ جمعرات کو صحافیوں پر لاٹھی چارج نہیں ہوا، پولیس نے شیشے کی شیلڈ سے صحافیوں کو پارلیمنٹ جانے سے روکا،،پارلیمنٹ کی حدود میں داخل ہنے سے وزارت داخلہ کے حکم پر روکا گیا، صحافیوں پر تشدد کا چیف جسٹس نے از خود نوٹس لیا ہے جبکہ وزارت اطلاعات نے پی آئی او کو انکوائری کا حکم دیا ہے، ہماری اطلاعات کے مطابق کل 35صحافی مظاہرہ کر رہے تھے، افسوسناک واقعہ ہے، ملک میں بدترین سنسرشپ ہورہی ہے، بھٹو کی پھانسی کے موقع پر خبریں اتار دی جاتی تھیں اور اخبارات سفید چھاپے جاتے، چالیس سال گزرنے کے باوجود ٹی وی اور اخبارات گونگے اور بہرے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پیمرا وزارت اطلاعات کا ذیلی ادارہ ہے جس نے چیئرمین پیمرا منتخب کرنا تھا لیکن عدالت کی جانب سے مجھے اس کمیٹی سے نکال دیا گیا، صحافی اور سول سوسائٹی کا نمائندہ بات نہ کر سکے، اداروں کے درمیان سانحہ ہوتا جا رہا ہے، ہم نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے مباحثے شروع کر کے ایک دوسرے کو بیوقوف بنارہے ہیں اداروں کے درمیان ڈائیلاگ ہونا چاہیے، کب تک منے کے ابا کے ڈر سے استعفے دیتے رہیں گے، اس سلسلے کو اب رکنا چاہیے، آج پی ایف یو جے کے درجنوں گروپ بن چکے ہیں ، اداروں کو تقسیم کر کے انہیں مفلوج کرنے کی روایت جاری رہی تو سیاسی اداروں کو اکٹھا ہونے کی ضرورت ہے، اس کے بغیر جمہوریت نہیں ہو گی، نواز شریف اور جمہوری لوگوں کی آواز بند کی جا رہی ہے، انہیں گونگ کیا جا رہا ہے، اسے بند ہونا چاہیے، اس کی مذمت ہونی چاہیے۔