قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ فزکس کا نام تبدیل، علمائے کرام کا خیر مقدم

پارلیمنٹ میں قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کا نام قادیانی ڈاکٹر عبدالسلام کے نام ہٹاکر معروف مسلم سائنسدان ابو الفتح عبدالرحمن منصور الخزینی کے نام پر رکھنے کی قراداد کا یہ پوری ملت اسلامیہ کے دل کی آواز ہے ، علماء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا جمعہ کے خطبات میں اظہار خیال

جمعہ مئی 19:50

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم تبلیغ مولانا محمداسماعیل شجاع آبادی ، سرپرست مجلس لاہور مولانا مفتی محمدنعیم الدین ، مجلس لاہور کے امیر مولانا مفتی محمدحسن ،مولاناعزیز الرحمن ثانی ، مبلغ مجلس لاہور مولانا عبدالنعیم، قاری جمیل الرحمن اختر، مولاناقاری علیم الدین شاکر،مولانا عبدالشکورحقانی،مولانا حافظ محمداشرف گجر ، مولانا سیدضیاء الحسن شاہ، مولانا قاری عبدالعزیز ،مولانا سعید وقار، قاری ظہورالحق ،مولانا عبدالشکوریوسف ،مولانامحمدحسین ،مولانا ظہیراحمدقمر، مولانامحبوب الحسن طاہر ،مولانا مختاراحمد،مولانا مسرورحسن ضیاء ،مولانا مسعوداحمد ودیگر کثیر علماء نے خطبات جمعہ میںخطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ فزکس کا نام تبدیل کرنے کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کا نام قادیانی ڈاکٹر عبدالسلام کے نام ہٹاکر معروف مسلم سائنسدان ابو الفتح عبدالرحمن منصور الخزینی کے نام پر رکھنے کی قراداد کا یہ پوری ملت اسلامیہ کے دل کی آواز اوراسالامیان پاکستان کی ترجمانی ہییہ قرارداد وطن عزیز میں قادیانیت نوازی کے بڑھتے رحجان کی حوصلہ شکنی ہے اور اس قرارداد نے بائیس کروڑاسلامیان پاکستان کے دل جیت لیے ہیں اور غیور مسلمانوں کے اندر خوشی کی لہردوڑ گئی ہے ۔

(جاری ہے)

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں متفقہ طورپر پاس کردہ اس قرارداد پر عمل درآمد کو فی الفور یقینی بنائے ۔علماء نے قراردادکے محرکین ممبران پارلیمنٹ اور اس کے حق میں ووٹ دینے والے تمام ممبران پارلیمنٹ کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ہے اور کہا ہے کہ فتنہ قادیانیت کیخلاف اور اسلام کے بنیادی عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرنے والے یہ ممبران انتہائی خوش نصیب ہیں اور اانکا یہ عظیم کارنامہ ہے ۔

علماء نے خطبات جمعہ میں قادیانی جماعت کی طرف سے سالانہ رپورٹ کو یکسر طورپر مسترد کرتے ہوئے اسے من گھڑت قراردیا ہے،انہوں نے قادیانیوں کی سالانہ رپورٹ پر اپنے ردعمل میں کہاکہ قادیانی پہلے اپنی آئینی اور قانونی حیثیت تسلیم کریں اور پھر اپنے حقوق کی بات کریں قادیانی اسلام اور مسلمانوں کا نام استعمال کر کے مسلمانوں کے حقوق پرڈاکہ دال رہے ہیں جو کہ ہم کسی بھی صورت برداشت نہیں کرینگے۔