اسلام آباد، مکئی، جوار، چارے اور دیگر زرعی اجناس کے حوالے سے ورائٹی اویلوایشن کمیٹی کا اجلاس

مکئی کی 32 نئی ورائٹیاں، ایک باجرا ، ایک جوار کی ورائٹی پاکستان میں کمرشل پیمانے پر کاشتکاری کے لیے منظور

جمعہ مئی 22:06

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل میں مکئی، جوار، چارے اور دیگر زرعی اجناس کے حوالے سے ورائٹی اویلوایشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں مکئی کی 32 نئی ورائٹیاں، ایک باجرا ، ایک جوار کی ورائٹی پاکستان میں کمرشل پیمانے پر کاشتکاری کے لیے منظور کی گئی۔ قومی کو آرڈینیٹر (باجرا، جوار اور چارہ) نے اس موقع پر کہا کہ کُل 41 ورائٹیاں پیش کی گئیں جن میں 38 مکئی کے ہائبرڈ، ایک باجرا، ایک جوار اور ایک جوں کی ورائٹی پبلک سیکٹر اور پبلک تحقیقی اداروں کی جانب سے وی ای سی کی منظوری کے لیے پیش کی گئیں۔

اس موقع پر ڈاکٹر انجم علی، ممبر پلانٹ سائنسز / چئیرمین VEC نے اس اجلاس کی صدارت کی اور اس اجلاس میں پبلک ،پرائیویٹ سیکٹر ،NARS سسٹم اور پرائیویٹ بیج کمپنیوں سے ٹیکنیکل ممبرز نے اس اجلا س میں شرکت کی۔

(جاری ہے)

اس موقع پر ڈاکٹر انجم علی نے کہا کہ ہم پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے تحقیق دانوں اور سائنسدانوں کی خدمات کو سراہتے ہیں کہ وہ ملک میں باجرا ، جوار اور چارے کی فصل کی بہتری میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ان فصلات کے نئے ہائبرڈ ز کے حوالے سے SOPs کمیٹی کو پیش کی گئیں۔ اس اجلاس میں چھلی کی فصل سے متعلق نئی ٹیکنالوجی اور اس کو در پیش مشکلات کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی۔ VEC کے ممبران نے پرائیویٹ بیج کمپنیوں کو چاول پر تحقیق کے حوالے سے ان کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ اس طرح سے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر مل کر کام کریں تو ملک زراعت میں خود کفیل ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔طارق ورک

متعلقہ عنوان :