ملتان کی شاہینہ بتول عزم و حوصلے کی مجسم تصویر بن گئی

شاہینہ بتول نے اپنے گھر والوں کا پیٹ پالنے کے لیے بہن جی کے نام سے فوڈ پوائنٹ کھول لیا

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس جمعہ مئی 19:51

ملتان کی شاہینہ بتول عزم و حوصلے کی مجسم تصویر بن گئی
ملتان(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 04 مئی 2018ء) ::ملتان کی شاہینہ بتول عزم و حوصلے کی مجسم تصویر بن گئی۔ شاہینہ بتول نے اپنے گھر والوں کا پیٹ پالنے کے لیے بہن جی کے نام سے فوڈ پوائنٹ کھول لیا۔تفصیلات کے مطابق کبھی کبھی انسان کے لیے زندگی ایک مسلسل آزمائش کا نام بن جاتی ہے۔انسان کے لیے دو وقت کی روزی کا حصول ایک ایسا مشکل کام بن جاتا ہے ۔اس حوالے سے ہمارے ہاں بھی دو طرح کے طبقے پائے جاتے ہیں ان میں سے ایک طبقہ تو ایسا ہے جو ہر طرح کی نعمت سے مالامال ہونے کے باوجود ہر جگہ شکوے شکایت کرتا نظر آتا ہے تو دوسری جانب ہمارے ہاں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنی ظاہری کمزوریوں کو پس پشت ڈال کر آگے بڑھنے کی دھن میں نظر آتے ہیں۔

ایسے لوگ اپنی معذوری ،جنس یا کسی مجبوری کو اپنے کام کے آڑے نہیں آنے دیتے۔

(جاری ہے)

انکی زندگی کا مقصد اپنے روز و شب کو اچھے طریقے سے بسر کرنا ہی نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے اعمال اور کردار سے دوسروںکے لیے مشعل راہ بننا چاہتے ہیں اور ایسا ہی ایک کردار ملتان کی شاہینہ بتول کا ہے ۔شاہینہ بتول کا نام تو شائد اب کسی کو یاد نہیں بلکہ ہر کوئی شاہینہ بتول کو بہن جی کے نام سے ہی جانتا ہے کیونکہ شاہینیہ آج ملتان کے باسیوں کے لیے عزم و ہمت کی داستان بن چکی ہے۔

شاہینہ بتول نے اپنے گھر والوں کا پیٹ پالنے کے لیے بہن جی کے نام سے فوڈ پوائنٹ کھول لیا۔اس حوالے سے شاہینہ کا کہنا تھا کہ 14سال پہلے اسکا خاوند ایک فیکٹری میں ملازم تھا اور گھر کا گزر بسر اچھے سے چل رہا تھا مگر میرے شوہر بیمار ہو گئے اور مجھے ہی گھر کی ذمہ داری سنبھالنی پڑی۔شاہینہ کا کہنا تھا کہ پہلے پہل انہوں نے ایک گھر میں باورچن کی نوکری کی لیکن جب انکی ساس کو کینسر کا مرض لاحق ہوا تو اس نوکری سے گزر بسر مشکل ہو گئی چنانچہ انہوں نے اپنی ساس اور پہلے سے معذور نند کو سنبھالنے کے لیے نوکری چھوڑ دی اور بہن جی کے نام سے فوڈ پوائنٹ کھول لیا جو درحقیقت ایک ریڑھی تھی۔

14 سال کی محنت و مشقت نے بھی شاہینہ بتول کا زندگی سے اعتبار اٹھنے نہ دیا اور وہ آج بہت سے دوسرے لوگوں کے لیے عزم و ہمت کی مثال بن گئیں۔انکے گاہک نہ صرف انکے کھانے کی تعریف کرتے ہیں بلکہ انکی ہمت و حوصلے کی بھی داد دیتے نظر آتے ہیں۔شاہینہ اب چاہتی ہیں کہ اب انکی چھوٹی سی ایک دوکان ہو جس میں بیٹھ کر وہ اپنا فوڈ سٹال باعزت طریقے سے چلا سکیں۔ویڈیو ملاحظہ کریں

متعلقہ عنوان :