افغانستان میں امن کیلئے امریکا، پاکستان مل کر کام کرسکتے ہیں،پینٹاگون

ہم پاکستان کی جانب ہاتھ بڑھا رہے ہیں اور ایسے امور پر غور کر رہے ہیں جس پر مشترکہ طور پر کام کیا جا سکے،ترجمان کی گفتگو

ہفتہ مئی 15:00

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) امریکی محکمہ دفاع نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اور امریکا میں بہت کچھ مشترک ہے جس کی بنیاد پر دونوں ممالک دہشت گردی کو شکست دینے اور افغانستان میں امن و امان کی صورتحال بحال کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق نیوز بریفنگ میں پینٹاگون کی چیف ترجمان ڈانا وائٹ نے ناصرف افغانستان میں امریکی جدوجہد جاری رکھنے کا عندیہ دیا بلکہ ساتھ ہی خطے میں امن و امان کی بحالی میں پاکستان کو اپنا کردار ادا کرنے پر زور دیا۔

کیا پاکستان دہشت گردی کے خلاف امریکا کی مدد کررہا ہی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ متعدد امور پر کام کرسکتے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان بہت کچھ کر سکتا ہے ہم ان کی جانب ہاتھ بڑھا رہے ہیں اور ایسے امور پر غور کر رہے ہیں جس پر مشترکہ طور پر کام کیا جا سکے تا کہ خطے کی سیکیورٹی بحال ہو سکے۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ یکم جنوری 2018 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی امداد کو بیوقوفی قرار دے دیا تھا۔

افغانستان میں دہشت گردوں کے متعدد حملوں کے بعد امریکی محکمہ دفاع، وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کی جانب سے بیانات کا سلسلہ جاری ہے جس میں افغانستان کے ساتھ اظہاریکجہتی کے دوران پاکستان کے مثبت کردار بھی بات ہوئی۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں کابل میں دہشت گردوں کے حملوں میں صحافیوں سمیت کئی سو افراد جاں بحق ہو گئے تھے جس کے بعد امریکی میڈیا کی جانب سے مقروضے سامنے آنے لگے کہ کابل میں حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان کے حوالے سے اپنی پالیسی پر دوبارہ غور کریں گے اور فوجیوں کو واپس بلانے کا فیصلہ ممکن ہے۔

متعدد امریکا میڈیا نے اپنی رپورٹ میں پیش گوئی کی کہ اگر افغانستان میں صورتحال قابو میں ںہیں آتی تو نو منتخب سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپی فوجیوں کو واپس بلانے کا مشورہ دیں گے۔