زندگی بھرنوازشریف کاسیاسی بوجھ اٹھایا، جوتیاں نہیں اٹھا سکتا

نوازشریف اور ان کی بیٹی نے طعنہ زنی کی،لیکن جواب نہیں دیا،کیونکہ میں نے نوازشریف کیساتھ پارٹی کیلئے ایک ایک اینٹ رکھی ہے۔سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار کی پریس کانفرنس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ مئی 17:13

زندگی بھرنوازشریف کاسیاسی بوجھ اٹھایا، جوتیاں نہیں اٹھا سکتا
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔05 مئی 2018ء) : مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء چودھری نثار نے کہا ہے کہ زندگی بھرنوازشریف کا سیاسی بوجھ اٹھایا،جوتیاں نہیں اٹھا سکتا،نااہلی کے وقت جانے والے ایم این ایزکا طوفان تھا،میں خاموشی سے بھی یہ کام کرسکتا تھا، لیکن میں سازشی نہیں ہوں،کیونکہ میں نے نوازشریف کیساتھ پارٹی کیلئے ایک ایک اینٹ رکھی ہے۔

انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ سیاسی فیصلے اپنی مرضی سے لیتا ہوں ۔کسی سے آرڈر نہیں لیتا۔کسی تحریک کاحصہ ہوں اور نہ ہی کسی سے آرڈر لیتا ہوں۔ انہوں نے مزید کہاکہ سب غلط فہمی دور کرلیں میں کسی سے آرڈر نہیں لیتا۔سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار نے ایک سوال پرکہا کہ نوازشریف اور عمران خان مجھ سے متعلق سوال پرخاموش رہتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ دونوں کی خاموشی سے میرا کیا تعلق ہوسکتا ہے؟ انہوں نے صحافیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ مجھے پتا کہ آپ پوچھیں گے کہ میں ن لیگ میں رہوں گا یا نہیں رہوں گا۔

مجھ سے سوال کیا جائے گا کہ پی ٹی آئی میں جارہاہوں یا نہیں جارہاہوں۔انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں کس نے کہا کہ سپریم کورٹ جائیں، جے آئی ٹی کوقبول کریں؟ کس نے کہاکہ تقریر کریں ۔ہم نے خود کیا۔جب آپ کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کمیشن بنائے ہمیں قبول ہوگا۔پھر جب فیصلہ آتا ہے توآپ کہتے ہیں زیادتی ہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ ہی واپس لے سکتی ہے۔

لیکن ہمیں اس حد تک نہیں جانا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ حدیبیہ کیس میں کیا یہ نہیں ہوسکتا؟ میں میاں صاحب کوسپریم کورٹ نہ جانے کا مشورہ دیا تھا۔انہوں نے کہاکہ نوازشریف کی نااہلی کے وقت میں نے مشورہ دیا کہ پورا زور الیکشن پرلگایا جائے۔ساتھ ہی 6مہینوں کی قدغن پربھی راستہ نکالیں۔
سختی سے کہیں کہ مجھے زیادتی ہوئی، سیاسی اور عدالتی میدان میں مقابلہ کروں گا۔

گلی کوچوں میں بھی مقابلہ کروں گا۔یہ نہ کہیں کہ ڈوریاں ہلارہا ہے،یہ نہ کہیں کہ پانچ پی سی او ججز کا نہ کہیں۔انہوں نے کہاکہمیں نارا ض ہوتا توجب نااہلی ہوئی توایک ایم این ایز جانے والوں کا طوفان تھا۔میں خاموشی سے بھی یہ کام کرسکتا تھا۔ لیکن میں سازشی نہیں ہوں۔ کیونکہ میں پارٹی کیلئے ایک ایک اینٹ رکھی ہے۔بہت سے ایم این ایز آتے ہیں لیکن میں ان کوکہتا ہوں کہ پارٹی میں رہنا ہے۔

چوہدری نثار نے کہا کہ میں نے ہر موقع پرحکومت اور پارٹی کوسپورٹ کیا ہے۔جب نوازشریف کیخلاف فیصلہ آیا تومیں اسمبلی میں نوازشریف کے حق میں ووٹ دیا۔ انہوں نے کہاکہ سینیٹ الیکشن میں مجھے شدید اعتراض تھا جولوگ لائے گئے۔4مشرف کے ساتھیوں کوہم نے سینیٹ کا ٹکٹ دیا۔نارا ض ہوتا توووٹ دیتا؟یہ کہنا بند کردیں کہ ق لیگ کے لوگ ہیں۔آپ نے ان چار لوگوں کوٹکٹ دیا۔ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔چوہدری نثار نے کہاکہ ساری زندگی نوازشریف کا سیاسی بوجھ اٹھای ہے لیکن میں جوتیاں نہیں اٹھا سکتا۔ان لوگوں نے میرا مشورہ نہیں مانا ۔یہ تصادم کے راستے پرچل پڑے۔لیکن میں چھوڑ کرنہیں گیا۔ بن بلائے میں کبھی کسی میٹنگ میں نہیں جاتا۔