انصاف کی فراہمی کیلئے وکلاء اور عدلیہ کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے،جسٹس اعجاز افضل خان

ظالموں کے مقابلے میں مظلوموںکا ساتھ دینا بہترین جہاد ہے،عدلیہ اور وکلاء اپنا کردار ادا کریں تو نا صرف معاشرے سے ناانصافی ختم ہو سکتی ہے بلکہ ہم بحیثیت قوم معاشرہ اور ملک ترقی کے منازل طے کر سکتا ہے،وکلاء برادری سے خطاب

ہفتہ مئی 21:09

مانسہرہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا ہے کہ انصاف کی فراہمی کیلئے وکلاء اور عدلیہ کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے ظالموں کے مقابلے میں مظلوموںکا ساتھ دینا بہترین جہاد ہے وہ ہفتہ کے روز ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے حلف برداری کے موقع پر وکلاء سے خطاب کر رہے تھے ، اس موقع پر ڈسٹرکٹ جوڈیشنری ، ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے ، بار کے صدر بشار ت احمد عابد ایڈووکیٹ اور جنرل سیکرٹری فہد حبیب تنولی ایڈووکیٹ نے ڈسٹرکٹ بار آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اعجاز افضل خان نے مانسہرہ بار رکن کی حیثیت سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا اور اپنی محنت کے بل بوتے پر اعلیٰ مقام حاصل کیا جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ عدلیہ اور وکلاء امن وامان اور انصاف کیلئے اپنا کردار ادا کریں تو نا صرف معاشرے سے ناانصافی ختم ہو سکتی ہے بلکہ ہم بحیثیت قوم معاشرہ اور ملک ترقی کے منازل طے کر سکتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ میں نے جب اپنا منصب سنبھالا تو میرے نقطہ نظر میں خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق اکبر ؓ کا اولین خطبہ تھا جس میں انہوںنے فرمایا کہ میرے نزدیک کمزور ترین سب سے مضبوط ترین اور طاقتورترین کمزور ترین ہے اگر عدلیہ اسی ماٹو کو لے کر چلے تو ہم معاشرے سے ناانصافیوں کا خاتمہ کر سکتے ہیں، بعدازاں پریس کلب مانسہرہ میں نومنتخب عہدیداروں سے حلف لیتے ہوئے کہا کہ اگر صحافی اپنے حلف کی وفاداری کریں تو وہ معاشرے سے برائیوں کے خاتمے میں فیصلہ کن کر دار ادا کر سکتے ہیں۔

انہوںنے کہا کہ صحافی حضرات اپنے قول و فعل ثابت کریں کہ وہ کسی بھی بااثر شخص کے رعب و دبدبے میں آکر مظلوم کی دادرسی سے نہیں کترائیں گے جسٹس اعجازافضل خان نے کہاکہ رحمن پبلک سکول میں طلباء سے بھی خطاب کیا کہ اور کہاکہ یہ ہمارے چمن کے پھول ہیں اور روشن مستقبل کے درخشاں ستارے ہیں ان کی تربیت پر ہمیں مکمل توجہ دینی چاہئے۔ جسٹس اعجاز افضل خان نے مانسہرہ شہر کے قریبی گائوں میں قتل ہونے والے خواجہ سراء مُنی ڈانسر کے قتل پر احتجاج کرنے والے خواجہ سرائیوں سے ملاقات کی اور انہیں مکمل انصاف کے یقین دہانی کرائی۔دسٹرکٹ سیشن کورٹ میں پولیس کے دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا اور بعد ازاں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد زیب خان کے ہمراہ جوڈیشنری کے اراکین سے ملاقات کی ۔