چیف جسٹس آف پاکستان حکماء کے خلاف جاری ناجائز چھاپوں پر از خود نوٹس لیں ‘طبی تنظیموں کا مطالبہ

پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی غیر اخلاقی کاروائیوں پر پوری طبی برادری سراپا احتجاج ہے ‘پروفیسر حکیم محمد شفیع طالب قادری

اتوار مئی 18:40

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) چیف جسٹس آف پاکستان کی ہدایت پر محکمہ صحت اور پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی کاروائیوں میں مستند اطبا ء کرام کو ناجائز ہراساں اور پریشان کرنے کے خلاف طب یونانی کی تمام نمائندہ جماعتوں کابھٹہ چوک میں ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں ملک بھر سے طب یونانی کی نمائندہ تنظیموں نے شرکت کی جن میں سر فہرست پاکستان تحفظ اطبا ء آرگنائزیشن ، وفاق اطبا ء پاکستان ، پاکستان طبی کانفرنس ، جوائنٹ ایکشن طبی کمیٹی ،ینگ یونانی طبی فائونڈیشن ،تحریک تجدید طب پاکستان ، پاکستان طبی اتحاداور طبیہ کمیٹی قصور سمیت دیگر ذیلی تنظیمیں شامل ہیں ۔

اجلاس کے شرکا ء اطبا ء برادری نے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار سے مطالبہ کیا کہ وہ محکمہ صحت کو خصوصی ہدایات جاری کریں کہ مستند حکماء کوعطائیت کے خاتمہ کی آڑ میں ناجائز ہراساں و پریشان نہ کیا جائے ۔

(جاری ہے)

تنظیموں کے سربراہان میں پروفیسر حکیم محمد شفیع طالب قادری،پروفیسر حکیم محمد احمد سلیمی ، پروفیسر حکیم سید عمران فیاض، حکیم چوہدری اشفاق احمد، حکیم سید مشرف زیدی ،حکیم محمد افضل میو،حکیم و ڈاکٹر محمد عابد شفیع ،حکیم افتخار مبین عرشی، حکیم امجد وحید بھٹی، حکیم طاہر نوید جنجوعہ، حکیم سجاد زخمی حکیم مرزا امین بیگ، حکیم محمد ابو بکر،حکیم محمد احمد نے مشترکہ طور پر مطالبہ کیا کہ چیف جسٹس صاحب حکماء برادری کے حال پر رحم کریں اور انہیں ان کے طبی فارما کوپیا کے اندر رہتے ہوئے بلا خوف و خطر پریکٹس کی اجازت دی جائے اورآئے روز نت نئے حربوں سے طبیب برادری کو حراساں نہ کیا جائے ۔

پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی غیر اخلاقی کاروائیوں پر پوری طبی برادری سراپا احتجاج ہے ۔ چیف جسٹس ثاقت نثار کے حکم پر پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے گدھے گھوڑے کا فرق مٹاتے ہوئے ایک ہی چھڑی سے ہانکنا شروع کر دیا اور قابل ترین معالجین کو بھی عطائیوں کی فہرست میں شمار کیا جانے لگاطب کے اندر بہتری لانے کی آڑ میں معزز اطباء کی تزلیل کا سلسلہ شروع ہوا ۔

مطب اور کلینکس پر چھاپے اور گرفتاریوں کے خوف سے عطائیوں کے ساتھ ساتھ مستند اطباء کی بھی ایک بڑی تعداد خوف و ہراس میں مبتلا ہو چکی ہے ۔ اس سخت اور شدید ترین طرزِ عمل سے طب و اطباء کی بہتری کی توقع محض خام خیالی ہے مگر اس کی آڑ میں فنِ حکمت اور اطباء کی تزلیل اور خاتمے کا آغاز ہو چکا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی طرف سے رجسٹرڈ اطباء کو دوبارہ صوبائی سطح پر لائسنس کا اجراء غیر قانونی ہے ۔

۔ایک کوالیفائیڈ طبیب کو باقاعدہ وفاقی حکومت صحت 1965کے ایکٹ کے مطابق رجسٹرڈ کرتی ہے اور اسے پریکٹس کا حق دیتی ہے مگر اب حکومت پنجاب کی جانب سے رجسٹریشن اور لائسنس حاصل کرنا بلا جواز ہے حکومتی امداد اورسر پرستی سے محروم اور بے یارو مددگار اطباء پر بے جا ء قوانین کا نفاذ کسی صورت بھی قابلِ قبول نہیں ۔