ادبی تقریبات کا انعقاد گھٹن کے ماحول کو دور کر کے اذہان کے بند دریچوں میں تازہ ہوا داخل کرنے کے مترادف ہے‘رفیق رجوانہ

پاکستان کی سیاست میں دائیں اور بائیں بازو کی سیاست کا ذکر رہتا ہے میرے نزدیک پاکستان ایک جسم ہے اس کا کوئی اعضا علیحدہ نہیں سیاست میں اختلاف رائے نئی مثبت راہوں کے تعین میں مددگار ہے، اپنی پارٹی کی غلطیوں اور سیاسی مخالفین کی اچھائی پر بھی غور کرنا چاہیے‘گورنرپنجاب کا تقریب سے خطاب

اتوار مئی 20:20

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ نے کہا ہے کہ ملتان اولیاء کرام کی سرزمین ہونے کے ساتھ ساتھ اہل قلم اور علم دوست شخصیات کا مرکز بھی ہے، اس خطے کے دانشوروں اور اہل قلم نے فروغ ادب کے لیے گرانقدر خدمات انجام دی ہیں، معروف دانشور اور کالم نگار عرفان صدیقی کی کتاب کی تقریب رونمائی کے لیے ملتان کا انتخاب اس شہر کی علم دوستی کا ثبوت ہے۔

یہ بات انہوں نے نے ملتان ٹی ہاوس میں وزیر اعظم کے مشیر معروف دانشور و کالم نگار عرفان صدیقی کی کتاب" جو بچھڑ گئی"کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔تقریب میں سینیٹر رانا محمود الحسن، ایم پی اے بیرسٹر محمد علی کھوکھر، معروف کالم نگار خالد مسعود خان، کالم نگار و شاعر افتخار عارف، کالم نگار وریذیڈنٹ ڈائریکٹر ملتان آرٹس کونسل سجاد جہانیاں، معروف شاعر ادیب، صحافی رضی الدین رضی،معروف کالم نگار وشاعر شاکر حسین شاکر معروف شاعر قمر رضا شہزاد , ملک آصف رفیق رجوانہ،، آئی بی کے جائنٹ ڈائریکٹر محمد افضل شیخ، چیئرمین ملتان ٹی ہاوس میاں تنویر اے شیخ کے علاوہ اہل ادب و اہل ذوق کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

گورنر پنجاب نے کہا ادبی تقریبات کا انعقاد گھٹن کے ماحول کو دور کر کے اذہان کے بند دریچوں میں تازہ ہوا داخل کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاست میں دائیں اور بائیں بازو کی سیاست کا ذکر رہتا ہے میرے نزدیک پاکستان ایک جسم ہے اس کا کوئی اعضا علیحدہ نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں اختلاف رائے نئی مثبت راہوں کے تعین میں مددگار ہے، اپنی پارٹی کی غلطیوں اور سیاسی مخالفین کی اچھائی پر بھی غور کرنا چاہیے۔

گورنرنے صاحب تصنیف عرفان صدیقی کے مطالبہ پر اکادمی ادبیات کے ملتان میں دفتر کی تعمیر کے لیے پنجاب حکومت کی طرف سے قطعہ اراضی کی فراہمی کے لیے فوری اقدامات کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ چاروں صوبائی دارالحکومتوں کے علاوہ ملتان میں اکادمی ادبیات کے دفتر کا قیام عرفان صدیقی ادب پروری کا ثبوت ہے۔تقریب سے صاحب تصنیف عرفان صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے کالموں پر مشتمل اس کتاب کی ترتیب ایک نہایت کٹھن کام تھا تمام کالم کو ایک کتاب میں اکٹھا کرنے سے کتاب ضخیم ہو جاتی اس لیے جو شخصیات ہم سے بچھڑ گئیں ان پر لکھے گئے کالموں پر مشتمل جو بچھڑ گئے کے نام سے کتاب مرتب کی گئی انہوں نے کہا کہ ملتان میں چھٹی کے روز اپنی ذاتی مصروفیات ترک کر کے ادبی تقریب میں اہل ذوق کی کثیر تعداد میں شرکت ملتان کے لوگوں کی ادب پروری ثبوت ہے عرفان صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر پنجاب حکومت اراضی فراہم کرے تو ملتان میں اکادمی ادبیات کے دفتر کی تعمیر کے تمام تر اخراجات فراہم کئے جائیں گے ۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معروفکالم نگار شاعر افتخار عارف، قمر رضا شہزاد، خالد مسعود خان، رضی الدین رضی، سجاد جہانیاں اور شاکر حسین شاکر نے عرفان صدیقی کی کتاب کے مختلف پہلوؤں اور اسلوب نگارش گفتگو کی اور ان کی تحریروں پر اپنی آراء بھی پیش کیں۔قبل ازیں گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ نے سابق وفاقی وزیر ملک مختار اعوان کی اہلیہ کی وفات پر اظہار تعزیت کیا ہے انہوں نے مرحومہ کی روح کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی اور ملک مختار اعوان کی عیادت کرتے ہوئے ان کی صحت یابی کیلئے دعا کی۔

گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ معروف عالم دین مفتی ہدایت اللہ پسروری کی رہائش گاہ پر بھی گئے اور ان کے بیٹوں سے مفتی ہدایت اللہ پسروری کی وفات پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے فاتحہ خوانی کی اور کہا کہ مفتی صاحب کی دینی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔دریں اثنا گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ نے آج نارووال میں وزیر داخلہ احسن اقبال پر حملے کی شدید مذمت کی اور دُعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں جلد صحت یابی عطا فرمائے۔