سپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس،6 بل منظورکر لئے گئے

مخنث افراد کے حقوق کے تحفظ،امدادی اور بحالی،نیشنل سوک ایجوکیشن کمیشن ،ضابطہ فوجداری ،انسداد دہشتگردی،انسداد بے رحمی حیوانات ، فوجداری قوانین اور بیت المال ترمیمی بل منظور کئے گئے

منگل مئی 15:50

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) قومی اسمبلی نے منگل کو پرائیویٹ ممبر ڈے کے موقع پر اپوزیشن کے متعدد بلز منظور کرلئے ہیں،منگل کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر نگرانی شروع ہوا،اجلاس میں رکن اسمبلی عبدالواسع کی طرف سے پاکستان میں عرصہ70سال سے رہنے والے شناخت اور شہریت سے محروم شہریوں اور شناخت دینے بابت پیش کردہ بل مشاورت کیلئے کمیٹی کو بھیج دیاگیا۔

رکن اسمبلی سمن سلطانہ جعفری کی طرف سے ٹورایرئیٹر اینڈ ٹریول ایجنٹس ریگولیشن2018بھی کمیٹی کے حوالے کیا گیا۔رکن اسمبلی کشور زہرا کی طرف صابطہ فوجداری رمیمی بل2018ء اور آئینی ترمیمی بل آرٹیکل81تا 106 کو بھی کثرت رائے سے مشاورت کیلئے کمیٹی کو بھیجا گیا۔۔پاکستان پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید نوید قمر کی طرف سے سینیٹ سے منظور شدہ چھ متعدد بلز پیش کئے گئے جو کہ بغیر کسی ترمیم کے اتفاق رائے سے منظور کرلئے گئے۔

(جاری ہے)

سید نوید قمر کی طرف سے مخنث افراد کے حقوق کے تحفظ،امدادی اور بحالی بل2018ء،نیشنل سوک ایجوکیشن کمیشن بل2018ء،ضابطہ فوجداری ترمیمی بل2018ء دفعہ325،انسداد دہشتگردی ترمیمی بل2018ء،انسداد بے رحمی حیوانات ترمیمی بل2018ء فوجداری قوانین ترمیمی بل2017ء دفعہ510 اور پاکستان بیت المال ترمیمی بل2017ء جو کہ سینیٹ سے منظور ہوکر حتمی منظوری کیلئے قومی اسمبلی میں پیش کئے گئے تھے کو ایوان نے اتفاق رائے سے منظور کرلیا ہے۔

اس موقع پر جمعیت علماء اسلام کی رکن اسمبلی نعیمہ کشورخان نے مخنث افراد کے حقوق کے تحفظ کیلئے لائے گئے ترمیمی بل پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ کہیں اس بل کی آڑ میں 18سال کی عمر کے بعد مخنث افراد کو اپنی مرضی کی جنس اپنانے کی منظوری تو نہیں دی جارہی اگر ایسا ہے تو یہ عمل شریعت سے متصادم ہے جس کی ہم مخالفت کریں گے کیونکہ خواجہ سراء کی جنس کی شناخت کا اختیار میڈیکل بورڈ کو ہونا چاہئے نہ کہ اس شخص کو جو خود سے اپنی مرضی کی جنس اختیار کرنے کا اختیار دلانا مقصود ہو۔

اس موقع پر جماعت اسلامی کی رکن اسمبلی عائشہ سید نے بھی نوید قمر کے پیش کردہ اس بل کی مخالفت کی۔سید نوید قمر کی طرف سے انسداد بے رحمی حیوانات کے پیش کردہ ترمیمی بل2018ء کی شق 9 پر اعتراض اٹھاتے ہوئے رکن اسمبلی شیریں مزاری نے کہا کہ اس بل میں جو جرمانے تجویز کئے گئے ہیں وہ بہت زیادہ ہیں،ایک غریب شہری جو اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ بھرنے سے قاصر ہے،پر جانوروں کا خیال نہ رکھنے سی25ہزار اور اس سے زائد جرمانے کرنے کا عمل کہیں کا انصاف نہیںٍ۔

بل کی تمام شقیں پیش کردہ صورت میں قابل قبول ہیں تاہم جرمانوں کی بیان کردہ صورت کو تبدیل کرنا ہوگا۔کہیں ان جرمانوں کا اطلاق گدھے اور ریڑھے بانوں پر نہ ہونا شروع ہوجائے۔سپیکر قومی اسمبلی نے اکثریت رائے سے پیش کردہ اپوزیشن کے تمام بلوں کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ اراکین اسمبلی کو بل میں ترامیم لانے کیلئے بروقت بلوں کی کاپیاں فراہم کردی جاتی ہیں۔اب آخری مرحلے پر کسی رکن کا اعتراض پورے ایوان کی رائے پر مسلط نہیں کیا جاسکتا۔