مقبوضہ کشمیر ،ْ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے، تم اپنے مشن پر ثابت قدم رہنا ،ْ والدہ کا بیٹے کو شہادت سے پہلے پیغام

توصیف کشمیر کی آزادی کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والا اپنے خاندان کا 15واں شخص ہے

منگل مئی 16:00

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میں اتوار کو شوپیان میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران شہید ہونے والے نوجوان توصیف احمد شیخ کی والدہ نسیمہ بانو نے کہا ہے کہ ان کے بیٹے نے شہید ہونے سے چند منٹ پہلے ان سے فون پر رابطہ کیا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نسیمہ بانونے کہا کہ اتوار کی صبح میرا موبائل فون بج اٹھا تومیں پرجوش انداز میںکال وصول کرنے دوڑتی ہوئی گئی جیسے مجھے پتہ تھا کہ فون کے دوسری طرف کون ہے۔

نسیمہ کے مطابق اس نے یہ جانے بغیر کہ دوسری طرف کون ہے ، پوچھا کیا تم ٹھیک ہو ، کہاں ہو نسیمہ کا اندازہ صحیح تھا یہ اس کا بیٹا ہی تھا۔ لیکن چند ہی لمحے بعد اس کو پتہ چلا کہ وہ اپنے بیٹے سے آخری بار بات کررہی ہے۔ توصیف نے ماں سے کہاکہ میں محاصرے میں ہوں اور نکلنے کا کوئی موقع نہیں ہے۔

(جاری ہے)

میں نے آپ سے ملاقات کا وعدہ کیاتھا لیکن اب یہ ممکن نہیں ہے۔

اب ہم آخرت میں ہی مل سکیں گے۔ آپ میرے لیے دعا کرنا۔ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے تم اپنے مشن پر ثابت قدم رہنا۔والدہ نے فون کٹ جانے سے پہلے جواب دیا۔ اس کے تین گھنٹے بعد 21سالہ نوجوان بیٹا شہید ہوا۔ اس کا جسم گولیوں سے چھلنی تھا۔ وہ ضلع شوپیان کے علاقے بادی گام میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران شہید ہونے والے پانچ نوجوانوں میں شامل تھا۔ توصیف کشمیر کی آزادی کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والا اپنے خاندان کا 15واں شخص ہے۔ نسیمہ نے یہ کہانی رامپور میں اپنے گھر پر صحافیوں کو مسکراتے چہرے کے ساتھ بتائی ۔اس گائوں کو شہداء پور کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔