انسانی حقوق کے لئے جگہ سکڑنے کی وجہ انتہائی طاقتور ڈی فیکٹو ریاست ہے ، فرحت اللہ بابر

جو کسی کو جوابدہ نہیں ، اصلی ریاست جو کہ پارلیمنٹ اور عوام کو جوابدہ ہے ان کے پاس ڈلیور کرنے کی کوئی طاقت نہیں،س کے نتیجے میں آزادی اظہار سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے،نئے خطرات بشمول ازخود سینسرشپ، چینلوں کو بند کرنا، مضامین کو اشاعت سے روکنا اور کسی بھی قانونی طریقے کو اختیار کئے بغیر کنٹونمنٹ کے علاقوں میں اخبارات کی ترسیل کو روکنا جس کی معلومات نہ تو وزیراطلاعات کو ہوتی ہے ، نہ وزارت داخلہ اور نہ ہی پیمرا کو سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر کا سیمینار سے خطاب

منگل مئی 23:50

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے سیاست کو انسانی حقوق سے ملانے کے موضوع پر کراچی کے ایک ہوٹل میں PILER کی جانب سے کرائے جانے والے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کے لئے جگہ سکڑنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ انتہائی طاقتور ڈی فیکٹو ریاست ہے جو کسی کو جوابدہ نہیں ہے جبکہ اصلی ریاست جو کہ پارلیمنٹ اور عوام کو جوابدہ ہے ان کے پاس ڈلیور کرنے کی کوئی طاقت نہیں۔

جس کے نتیجے میں آزادی اظہار سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ نئے خطرات بشمول ازخود سینسرشپ، چینلوں کو بند کرنا، مضامین کو اشاعت سے روکنا اور کسی بھی قانونی طریقے کو اختیار کئے بغیر کنٹونمنٹ کے علاقوں میں اخبارات کی ترسیل کو روکنا جس کی معلومات نہ تو وزیراطلاعات کو ہوتی ہے ، نہ وزارت داخلہ اور نہ ہی پیمرا کو۔

(جاری ہے)

یہ وہ تمام اقدامات ہیں جو غیرمرئی عناصر کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتے ہیں۔

کچھ لوگ بندوقیں لہرا کر اور کچھ لوگ مذہبی کتابیں ہاتھوںمیں لے کر آزادی اظہار کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ آج قانون کی حکمرانی ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایسے عناصر موجود ہیں جو قانون سے بالاتر ہیں، کچھ قانون کو توڑنے والے ہیں اور بہت سارے ایسے لوگ ہیں جنہیں قانون سے ماوراء سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے ایسے احتسابی نظام کا مطالبہ کیا کہ جس میں سیاستدان، اراکین پارلیمنٹ،، بیوروکریٹس، صدر، وزیراعظم،، جنرلز اور جج سب کا احتساب کیا جائے۔

جنرلوں اور ججوں کو احتساب سے باہر رکھنا احتساب کی ساکھ پر اثرانداز ہوتا ہے جس کی وجہ سے قانون کی حکمرانی اثرانداز ہوتی ہے اور لاقانونیت فروغ پاتی ہے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے منشور میں انسانی حقوق کو شامل کریں اور اس کے ساتھ ساتھ ایک چارٹر آف ہیومن رائٹس بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کو گالیاں دینے کی آزادی ہے، اٹھارہویں ترمیم کی مزمت کی جاتی ہے اور ریاستی بیانیے کو طوطے کی طرح دہرانے کی آزادی ہے لیکن کسی متبادل بیانیے کو پیش کرنے کی اجاز ت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بُل اِن چائنا ٹائون نے سول ملٹری تعلقات کو توڑ مروڑ دیا ہے اور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ خارجہ پالیسی چلا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر پر اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے ہمیں دیگر معاملات میں حالات کو نارمل بنانا چاہیے۔ افغان پالیسی پر نظرثانی ہونی چاہیے اور جہادی پروجیکٹ کو ختم کرکے انسانی حقوق کے ایجنڈے کو فروغ دینا چاہیے۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ خواتین کے خلاف جرائم کا ایک قومی رجسٹر بنایا جائے اور ایک اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کا تقرر کیا جائے جو خواتین کے خلاف تشدد کے مقدمات کی پیروی کرے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فوج نے ہمیشہ سول ملٹری مساوات کو دوبارہ سے تحریر کرنے کی کوشش کی ہے جس اعتراف سابق آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت بھی جنرل مشرف کے ایل ایف او پر تبصرہ کرتے ہوئے کر چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سول ملٹری مساوات کو دوبارہ تحریر کرنا بہت دور تک چلا گیا ہے اور اب اس بات کی ضرورت ہے کہ اگر پاکستان ایک ترقی پسند جمہوری ملک کی حیثیت سے پہچانا جائے جہاں انسانی حقوق اور سماجی آزادیاں ہو ں تو اس مساوات میں کی گئی خامیوں کو درست کیا جائے۔ اس سیمینار سے آئی اے رحمن، جسٹس نواز چوہان، جسٹس ماجدہ رضوی اور انسانی حقوق اور مزدوروں کے حقوق کے کارکنوں نے بھی خطاب کیا۔