موجودہ حکومت کے دور میں 13500 میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہوئی ہے، اس وقت بجلی کی طلب اور رسد میں فرق نہ ہونے کے برابر ہے، قوم سے جو وعدہ کیا تھا اس میں سرخرو ہو رہے ہیں، رمضان المبارک میں زیادہ نقصانات والے علاقوں میں بھی سحری اور افطار کے اوقات میں لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی

وزیر مملکت برائے توانائی عابد شیر علی کا سینیٹ میں توجہ دلائو نوٹس کے جواب میں اظہار خیال

بدھ مئی 19:23

موجودہ حکومت کے دور میں 13500 میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہوئی ہے، اس وقت ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) وزیر مملکت برائے توانائی عابد شیر علی نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں 13500 میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہوئی ہے۔ بجلی کی طلب اور رسد میں فرق اس وقت نہ ہونے کے برابر ہے۔ قوم سے جو وعدہ کیا تھا اس میں سرخرو ہو رہے ہیں۔ رمضان المبارک میں زیادہ نقصانات والے علاقوں میں بھی سحری اور افطار کے اوقات میں لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی۔

بدھ کو ایوان بالا میں سینیٹر شیری رحمان اور دیگر ارکان کے توجہ دلائو نوٹس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں بجلی کی ہزاروں میگاواٹ کی کمی تھی اور احتجاجاً موٹر ویز اور سڑکیں بلاک ہو جاتی تھیں۔ فیکٹریوں میں 20، 20 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی، صنعتی شعبہ تباہ ہو گیا تھا لیکن موجودہ حکومت نے دن رات کام کر کے صورتحال کو بہتر بنایا ہے۔

(جاری ہے)

بجلی کے شعبہ میں رینٹل پاور جیسا کوئی سکینڈل اس حکومت کے دور میں سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ دو عشروں سے ٹرانسمیشن لائنوں کے لئے بھی کوئی کام نہیں ہوا تھا اور کوئی پن بجلی کا منصوبہ شروع نہیں کیا گیا تھا لیکن ہم نے پاور پالیسی میں تبدیلی کر کے کرپشن کے دروازے بند کر دیئے ہیں۔ پچھلے پانچ سال میں ساڑھے 13 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہوئی ہے۔

3500 میگاواٹ مزید بجلی بھی آئے گی۔ سی ون، سی ٹو اور سی تھری منصوبوں میں حالیہ دنوں میں خرابی سے ایک دو دن مسئلہ رہا لیکن اسے دور کرلیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت کے پاس رقم ہم نے دے دی لیکن ہمیں ڈسٹری بیوشن نظام کے لئے تین چار سال زمین حاصل کرنے میں لگ گئے۔ پانچ ماہ میں ہم نے 220 کے وی کے پانچ نئے گرڈ اسٹیشن بنائے ہیں۔

چکدرہ اور مانسہرہ گرڈ اسٹیشن نے بھی کام شروع کر دیا ہے۔ آج پیداوار 19300 میگاواٹ ہے جو طلب کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بجلی کے نقصانات کے حوالے سے کیٹیگریز بنا رکھی ہیں۔ کیٹیگری I- کے تحت 10 فیصد تک لاسز والے علاقوں میں کوئی لوڈ شیڈنگ نہیں ہو رہی، آن لائن نظام موجود ہے جس کے ذریعے بجلی کی فراہمی کے حوالے سے تمام صورتحال خود دیکھی جا سکتی ہے جبکہ 98 فیصد علاقوں میں موبائل میٹر ریڈنگ ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی سے 150 ارب روپے ٹیوب ویلوں کی مد میں وصول کرنے ہیں، اس کے علاوہ آزاد کشمیر اور فاٹا سے بھی 70، 70 ارب روپے لینے ہیں لیکن ہم اکائیوں کی بجلی بند نہیں کر سکتے۔ ماضی میں 22، 22 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی۔ سیاسی جماعتیں تعاون کریں تاکہ بجلی چوروں کو سزا دی جا سکے۔ انہیں سیاسی تحفظ نہ دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ 750 میگاواٹ کے ونڈ انرجی کے منصوبے سسٹم میں شامل ہو چکے ہیں اور 2018ء میں ہمارا ہدف 1500 میگاواٹ کا ہے۔ سولر منصوبوں سے 600 میگاواٹ بجلی حاصل ہو رہی ہے جسے ہم 1000 میگاواٹ تک لے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 10 سے 20 فیصد تک لاسز والے فیڈرز پر 2 گھنٹے، 20 سے 30 فیصد لاسز والے فیڈرز پر دو گھنٹے، 30 سے 40 فیصد لاسز والے فیڈرز پر چار گھنٹے، 60 سے 80 فیصد لاسز والے فیڈرز پر 8 گھنٹے اور 80 سے زائد لاسز والے فیڈرز پر 12 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں 9 ہزار فیڈرز کی مکمل تفصیلات ہم دینے کے لئے تیار ہیں۔ بجلی چوری پر ایف آئی آر بی درج کرائی جاتی ہے لیکن صوبائی حکومتوں سے تعاون نہیں ملتا۔ کئی علاقوں میں بجلی کی تنصیبات پر حملے بھی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2018ء تک 56 بجلی گھر لگ جائیں گے۔ ڈسٹری بیوشن کی بہتری کے لئے بھی ہم نے اقدامات کئے ہیں اور بلوچستان میں ڈسٹری بیوشن کے نظام کو بہتر بنایا ہے اور اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے قوم سے جو بھی وعدہ کیا تھا اس میں سرخرو ہو رہے ہیں۔ رمضان المبارک میں سحری اور افطار کے اوقات میں زیادہ نقصانات والے علاقوں میں بھی لوڈ شیڈنگ نہیں کی جائے گی۔