سپریم کورٹ نے پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کے اطلاق سے متعلق کیس میں وزارت پٹرولیم اورمتعلقہ محکموں سے وضاحت طلب کرلی

بدھ مئی 23:46

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) سپریم کورٹ نے پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کے اطلاق سے متعلق کیس میں وزارت پٹرولیم اورمتعلقہ محکموں سے وضاحت طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کردی ہے اورکہاہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر 25 فیصد ٹیکس لگتا ہے، اورجب بھی عالمی مارکیٹ میں پٹرول مصنوعات کی قیمتیں کم ہوتی ہے یہاں اس پرسیلز ٹیکس لگا دیا جاتا ہے، بدھ کوچیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ، اس موقع پر چیف جسٹس نے کہاکہ پٹرولیم مصنوعات پر 25 فیصد ٹیکس لگتا ہے، جب بھی عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہوتی ہے تواس پرسیلز ٹیکس لگا دیا جاتا ہے، یعنی جب عوام کو ریلیف دینے کی باری آتی ہے تو ٹیکس لگ جاتا ہے، سماعت کے دورا ن جسٹس اعجازالاحسن نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل راناوقار سے استفسارکیا کہ ہمیں بتایا جائے کہ پٹرولیم مصنوعات پر کس قسم کے ٹیکسز کا اطلاق ہوتا ہے اوراس وقت عالمی مارکیٹ اورپاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کیا کیا قیمتیں ہیں ۔

(جاری ہے)

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ا س ریجن میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہمارے ہاں سب سے کم ہیں، جس پرچیف جسٹس نے ان سے کہاکہ بھارت سے اپنی قیمتوں کا موازنہ نہ کریں، اس لئے کہ کیا بھارت کے ساتھ ہمارا آئی ٹی کے شعبہ میں کوئی مقابلہ ہے، جب بھی خام تیل کی قیمت کم ہوتی ہے تو آپ سیلز ٹیکس بڑھا دیتے ہے ، ہمیں چارٹ بنا کر تمام تفصیلات دی جائیں ، اور اپنے ٹیکسز سے متعلق عدالت کوآگاہ کیا جائے، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پٹرولیم مصنوعات پرتین طرح کے ٹیکسز لاگو ہیں ، جن میں کسٹم ڈیوٹی ، پیٹرولیم لیوی اور سیلز ٹیکس شامل ہیں ، چیف جسٹس نے ان سے استفسارکیا کہ پٹرولیم مصنوعات پرکتنا سیلز ٹیکس وصول کیا جارہا ہے ، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اس وقت 11 عشاریہ4 فیصد سیلز ٹیکس وصول کیا جارہا ہے، تو چیف جسٹس نے کہاکہ کیا پٹرولیم مصنوعات کاکوئی مارجن بھی ہے ، ایڈیشل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ دو طرح کے مارجن ہیں جن میں پہلا آئل کمپنی کی طرف سے مارکیٹنگ مارجن اور دوسرا پیٹرول پمپ کا ڈیزل مارجن شامل ہیں، چیف جسٹس نے ان سے کہاکہ بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر سے کم ہوکر 50 ڈالر ہو جاتی ہے تب بھی آپ کی قیمت کم نہیں ہوتی ، توراناوقارنے بتایا کہ ہم خام تیل پر پراسیسنگ نہیں کرتے تاہم اس پر ڈھاکا ریلیف فنڈ نہیں لگا ہواہے ، چیف جسٹس نے ان سے کہاکہ کیا مصنوعات کی پراسیسنگ کے مکمل آڈٹ کرائے گئے ہیں، ہمیں اس حوالے سے ایک ہفتے میںتفصیلی رپورٹ پیش کی جائے بعدازاں مزید سماعت ملتوی کردی گئی ۔