چئیرمین نیب کو پارلیمنٹ طلب کرنے پر معروف صحافی نےوزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو کھری کھری سنا دیں

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے صرف نواز شریف کو خوش کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں چئرمین نیب کو طلب کرنے کا کہا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعرات مئی 11:27

چئیرمین نیب کو پارلیمنٹ طلب کرنے پر معروف صحافی نےوزیراعظم شاہد خاقان ..
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔10مئی 2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے گزشتہ روز سابق وزیراعظم نوازشریف کیخلاف منی لانڈرنگ کے الزام کے نیب نوٹس پر چیئرمین نیب کو پارلیمنٹ میں طلب کرکے ان سے تفتیش کا مطالبہ کیا تھا۔اسے متعلق معروف صحافی نصرت جاوید کا دوران پروگرام گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آج وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بہت غصے میں تھے۔

نصرت جاوید کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو وزیراعظم بنانے والے آج پچتا رہے ہیں کہ ہم نے یہ کیا کر دیا۔اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اپنی کاروائی ڈال کر نواز شریف کو یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ گھبرائیں نہیں میاں صاحب ہم آپ کے ساتھ ہیں۔نصرت جاوید کا کہنا تھا شاہد خاقان عباسی وزیراعظم پاکستان ہیں اور قائد ایوان ہیں۔

(جاری ہے)

وہ اسپیکر کو کیوں کہہ رہے ہیں کہ اسمبلی بنائیں۔۔وزیراعظم کو چاہئے تھا کہ وہ ایک 7 رکنی ٹیم بناتے جس میں اپوزیشن کے اراکین بھی شامل ہوں۔اور پھر وہ تین دن کے اندر اند چئیرمین نیب کو بلا کر پوچھیں کہ آپ نے پورے ملک کو بد نام کرنے کے لیے یہ کیا حرکت کی ہے۔اور اگر چئیر مین نیب نہیں پیش ہوتے تو ان کو بر طرف کر دیا جائے۔لیکن وزیراعظم نے صرف نواز شریف کو خوش کرنے کے لیے یہ کیا۔

یاد رہے کہ وزیراعظم کا نوازشریف کیخلاف منی لانڈرنگ کے الزام کے نیب نوٹس پر چیئرمین نیب کو پارلیمنٹ میں طلب کرکے ان سے تفتیش کا مطالبہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے ۔جو چیئرمین نیب کو طلب کر کے ان سے ثبوت مانگے اور رپورٹ ایوان میں پیش کرے تاکہ عوام حقائق جان سکے،،الیکشن سے قبل اسطرح کے الزامات پری پول دھاندلی ہے،نیب کا ادارہ سیاسی جماعتیں توڑنے اور وفاداریاں تبدیل کرنے کیلئے ایک آمر نے بنایا تھا، شرمندگی اس بات کی ہے کہ چیئرمین نیب کا نام میں نے اور قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے اتفاق رائے سے بھیجا تھا،اسطرح کی کارروائیاںدنیا میں پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہی ہیں،سابق وزیراعظم کی نیب عدالت میں ہفتے میں6،6 پیشیاں اور بعض اوقات روزانہ3،3 پیشیاں ہو رہی ہیں، نیب کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی،احتساب عدالت میں انصاف ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا، احتساب قانون میں ترمیم کرنے پر جو اتفاق ہوا تھا اسے بے شک ماضی میں نہ لے کر جائیں بلکہ مستقبل کیلئے فیصلہ کرلیں اورجن ترامیم پر حکومت اور اپوزیشن کا اتفاق ہو چکا ان کو ایوان میں پیش کیاجائے اور انکو منظور کیا جائے۔

ویڈیو ملاحظہ کیجئے: