روغنی بیج کی بڑھتی درامد سے قیمتی زرمبادلہ ضائع ہو رہا ہے،غلط پالیسیوں سے عوام اور کاشتکاروں کا استحصال کیا جا رہا ہے، پاکستان اکانومی واچ

جمعرات مئی 16:12

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں روغنی بیچ کی پیداوار میں خطرناک حد تک کمی واقع ہو رہی ہے جسے پورا کرنے کیلئے درامدات بڑھائی جا رہی ہیں جس سے قیمتی زرمبادلہ ضائع جبکہ لاکھوں کسانوں کااستحصال ہو رہا ہے۔ اشرافیہ کو نوازنے کیلئے زرعی شعبہ کو تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا ہے۔

گزشتہ پانچ سال میں خوردنی تیل کے بیج کی درامد ساڑھے سات لاکھ ٹن سے بڑھ کر اکتیس لاکھ ٹن تک جا پہنچی ہے۔ سستے بیج کی بلا روک ٹوک درامد سے ڈیڑھ ارب ڈالر کا قیمتی زر مبادلہ خرچ ہو رہا ہے ۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان میں سورج مکھی سرسوںاور کینولہ سے نکلنے والے تیل کی پیداوار جو 2011 میں تقریباً سات لاکھ ٹن تھی اب ساڑھے چار لاکھ ٹن سے بھی کم ہو گئی ہے ۔

(جاری ہے)

سیاسی مفادات کے حصول کیلئے درامد شدہ روغنی بیج پر ڈیوٹی اور ٹیکس انتہائی کم رکھے گئے ہیں جبکہ بجٹ میں سویابین آئل پر درامدی ڈیوٹی میں 32.6 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے جس سے روغنی بیج کی درامد پہلے ہی سال میں پچاس لاکھ ٹن تک پہنچ جائے گی جس سے حکومت کے نقصانات بیس ارب روپے تک پہنچ جائیں گے جبکہ عوام کی جیب سے بیس ارب روپے نکال کر ایک با اثر سیاستدان کی جیب میں ڈال دئیے جائیں گے۔ با اثر کارخانہ داروں کی مخصوص لابی کے بجائے اگر کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی کی جائے تو روغنی بیج کی پیداوار بڑھ سکتی ہے جس سے امپورٹ بل میں کمی آئے گی جبکہ عوام کو بھی ریلیف ملے گا۔