شیرانی اور موسیٰ خیل کو ضم کرکے ایک حلقہ بنانے کا فیصلہ فوری طور پرواپس لیا جائے ،بصورت دیگر بھر پور احتجاج کیا جائے گا،پاکستان تحریک انصاف بلوچستان

جمعرات مئی 18:28

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے رہنمائوں نے مطالبہ کیا ہے کہ شیرانی اور موسیٰ خیل کو ضم کرکے ایک حلقہ بنانے کا فیصلہ فوری طور پرواپس لیا جائے بصورت دیگر بھر پور احتجاج کیا جائے گا۔ یہ بات تحریک انصاف شمالی ریجن کے صدر سردار قربان غرشین ،صوبائی سیکرٹری اطلاعات بابریوسفزئی اور موسیٰ خیل کے رہنما سردار بابر خان نے جمعرات کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ۔

انہوں نے کہا کہ موسیٰ خیل بلوچستان کا انتہائی پسماندہ علاقہ ہے گزشتہ دنوں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے موسیٰ خیل اور شیرانی کو ملاکر ایک حلقہ بنادیا جو نا انصافی ہے ضلع موسیٰ خیل کی آبادی ایک لاکھ 80ہزار جبکہ ضلع شیرانی کی آبادی 1لاکھ 50ہزار سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ اسکے برعکس واشک جسے علیحدہ حلقہ بنایا گیا ہے اسکی آبادی ایک لاکھ 40ہزار ہے انہوں نے کہا کہ جواضلاع پہلے ہی پسماندگی کا شکار ہیں ان سے مزید ظلم ناقابل برداشت ہے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے اپیل کی کہ وہ موسیٰ خیل اور شیرانی کی پرانی حیثیت کو بحال کریں بصورت دیگر سخت احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ خیل اور شیرانی نہ صرف پسماندہ اضلاع ہیں بلکہ یہاں کے عوام بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ فیصلے کے خلاف آج بھی تحریک انصاف کے زیراہتمام شیرانی میں پہیہ جام کیاگیا ہے اگر جلد فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو صوبے کی تمام قومی شاہراہوں کو احتجاجاً بند کردیا جائے گا ۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف جلد سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔