مسلم لیگ ن کے سیاسی پرندوں کی اڑان کا سلسلہ جاری ہے

بلوچستان سے4 ارکان اسمبلی کا عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت کا اعلان ،ان ارکان میں خالد مگسی، جام کمال، دوستین ڈومین اور خلیل جارج شامل ہیں۔میڈیا رپورٹس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات مئی 17:36

مسلم لیگ ن کے سیاسی پرندوں کی اڑان کا سلسلہ جاری ہے
کوئٹہ(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10مئی 2018ء) : مسلم لیگ ن سے سیاسی پرندوں کی اڑان کا سلسلہ جاری ہے، بلوچستان سے 4ارکان اسمبلی نے عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ ن کے چار ارکان اسمبلی جن میں خالد مگسی، جام کمال، دوستین ڈومین اور خلیل جارج شامل ہیں۔ان تمام رہنماؤں نے اے این پی کی قیادت سے ملاقات کی۔

جس میں سیاسی صورتحال اورعام انتخابات سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پرچاروں رہنماؤں نے مسلم لیگ ن کوخیربادکہتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا ہے۔۔اے این پی کی اعلیٰ قیادت نے ان تمام رہنماؤں کی پارٹی میں شمولیت کا خیرمقدم کیا ہے۔ خالد مگسی، جام کمال، دوستین ڈومین اور خلیل جارج نے کہا کہ بی اے پی صوبے کے عوام کے امنگوں کی ترجمان ہے۔

(جاری ہے)

واضح رہے آج چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے کامونکی سے رانا نذیر ، خانیوال سے لیگی رکن رضا حیات ہراج،گوجرانوالہ سے ن لیگی ایم پی اے راحیلہ یحیٰ اور گوجرانوالہ سے ن لیگ کے ایم این اے عمر نذیرنے ملاقات کی۔ جس میں ان تمام سیاسی رہنماؤں نے تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کردیا۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے پنجاب کے مختلف شہروں سے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی شمولیت کا خیرمقدم کیا ہے۔

عمران خان نے کہا ہے کہ ان تمام رہنماؤں کی شمولیت سے تحریک انصاف منظم اور فعال ہوجائے گی۔ تحریک انصاف میں شامل ہونے والے رہنماؤں سے پی ٹی آئی مضبوط ہوگی۔ گزشتہ روز جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے متعدد رہنماؤں نے بھی تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے رہنماء خسرو بختیار نے کہا کہ عمران خان نے اپنے منشور میں جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کا نکتہ شامل کیا ہے،اسی وجہ سے پی ٹی آئی میں ضم ہونے کا معاہدہ کیا ہے۔

اسی طرح آئندہ عام انتخابات 2018ء کے پیش نظر سیاسی پرندوں کی اڑان کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم تحریک انصاف ایک بڑی جماعت بن کرسامنے آرہی ہے،جیتنے والے سیاسی رہنماؤں کی پی ٹی آئی میں شمولیت سے یہ بات واضح ہوتی جارہی ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں اصل مقابلہ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے درمیان ہوگا۔بعض تجزیاکاروں نے پی ٹی آئی کو آئندہ حکومت بنانے والی جماعت بھی قرار دے دیا ہے۔جبکہ کچھ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ انتخابات کے بعد کوئی بھی جماعت سادہ اکثریت سے حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہوگی۔۔پی ٹی آئی کو حکومت بنانے کیلئے پیپلزپارٹی، آزاد اراکین کی حمایت حاصل کرنا پڑے گی۔