نواز شریف نے ایک سپاہی کی دلچسپ کہانی سنا دی

چئیرمین نیب کے معاملے میں پیچھے نہیں ہٹیں گے،یہ چھوٹا نہیں کافی سنجیدہ معاملہ ہے،احتساب عدالت کے باہر قائد مسلم لیگ ن نواز شریف کی صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعہ مئی 12:17

نواز شریف نے ایک سپاہی کی دلچسپ کہانی سنا دی
اسلام آباد(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔11مئی 2018ء) بھارت منی لانڈرنگ الزام کے تحت نواز شریف کو نیب نے ایک نوٹس بھیجا تھا۔جس پر سابق وزیراعظم نواز شریف نے سخت رد عمل کا اظہار کیا تھا۔احتساب عدالت کے باہر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے قائد مسلم لیگ ن نواز شریف کا کہنا تھا کہ چئیرمین نیب کے معاملے میں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔یہ چھوٹا نہیں کافی سنجیدہ معاملہ ہے۔

ہم نےسی ای سی کا اجلاس بلایا ہےجس کامقصد چیئرمین نیب کامعاملہ زیر بحث لاناہے۔موجودہ حالات پر گزشتہ روز وزیراعظم سے بات ہوئی۔انہوں نے کہا کہ جویہ سب کررہے ہیں ان کاکام ہے کہ وہ ملک سےمتعلق سوچیں۔ مجھے وزارت عظمیٰ سےمحروم کیا گیا اور پارٹی صدارت سےتاحیات نااہلی کا فیصلہ بھی صادر کردیا گیا۔ نواز شریف نے ساتھ ہی ایک سپاہی کا دلچسپ واقعہ بھی سنا دیا کہ راجن پور کے ایس پی نے سپاہی سے کہا، تھانے میں صفائی نہیں ہوئی، تیرا تبادلہ کردوں گا، سپاہی نے برجستہ جواب دیا کہ جناب جو مرضی کریں۔

(جاری ہے)

راجن پورکے آگے کوئی تھانہ نہیں اور سپاہی سے نیچے کوئی رینک نہیں ہے.یاد رہے کہ گزشتہ روز نواز شریف نے ایک پریس کانفرس کی تھی جس میں انہوں نے نیب کی طرف سے بغیر تحقیق کے نوٹس بھیجنے پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ نیب اپنی ساکھ کھو چکا ہے، انہوں نے میری ذات کو ہی نہیں قومی وقار کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ چیئرمین نیب کو چاہئے تھا کہ کالم نگار کو بلا کر پوچھتے اور ورلڈ بینک سے استفسار کرتے، رات کے لمحات میں پریس ریلیز جاری کرنے کی ایمرجنسی آخر انہیں کیوں محسوس ہوئی، انہیں 24 گھنٹوں میں اس کی وضاحت کرنی چاہئے یا پھر قوم سے معافی مانگیں۔

نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ میں پہلے بھی نیب کے جانبدارانہ، متعصب اور عناد پر مبنی رویہ کی طرف اشارہ کرتا رہا ہوں، نیب کی اس پریس ریلیز نے میری بات کی توثیق کر دی ہے، نیب نے اپنی ذمہ داریوں کو پس پشت ڈال کر میری کردار کشی کو اپنا شعار بنا لیا ہے، ایک اردو اخبار میں چھپنے والے کالم کو جواز بنا کر ورلڈ بینک کی رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے۔