نیشنل بینک ڈیرہ مراد جمالی میں پانچ روز سے کیش کی عدم موجودگی کے باعث لوگوں کومشکلات کا سامنا

جمعہ مئی 18:51

ڈیرہ مراد جمالی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) نیشنل بنک ڈیرہ مراد جمالی میں پانچ روز سے کیشن کی عدم موجودگی سے سرکاری ملازمین پینئرز کھاتہ دار رل گئے بوڑھی عورت گردوں میں مبتلا بیٹے کے علاج اپنے اکائونٹ سے رقم مانگتی رہی لیکن کیشن کی عدم موجودگی کا جواب دے دیا گیاعورت کی چیخ وپکارنیم بہوشی کی حالت میںمایوس ہو کر چکی گئی جس سے سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے دکانداروں نے قرض دینا بند تعلیمی اداروں سے فیس کی عدم ادائیگی سے بچوں کو سکولوں سے نکال دیا گیا منیجرغائب تفصیلات کے مطابق نیشنل بنک ڈیرہ مراد جمالی میں سات مئی سے اچانک بنک میں کیشن غائب کردی گئی جس کی وجہ سے شدید گرمی میں تحصیل تمبو تحصیل چھتر ڈیرہ مراد جمالی ودیگر دور دراز علاقوں سے آنے والے سرکاری ملازمین پینشنئرز ودیگر کھاتے دار بنک کا یاترہ کرکے خالی ہاتھ مایوس ہوکر چلے جاتے ہیں جمعہ کے روزبنک میں کیشن کی عدم موجودگی کی وجہ سے رقت آمیز مناظر دیکھنے کو آئے ایک بورھی عورت گردوں میں مبتلا بیٹے کے علاج کیلئے اپنے اکائونٹ سے مبلغ 44ہزار روپے کی رقم مانگتی رہی لیکن کیشن کی عدم موجودگی کا جواب دے دیا گیاعورت کی چیخ وپکارنیم بہوشی کی حالت میںمایوس ہو کر چکی گئی نیشنل بنک میں کیش کی عدم موجودگی کی وجہ سے سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے دکانداروں نے قرض دینا بند کردیا ہے تعلیمی اداروں سے فیس کی عدم ادائیگی سے بچوں کو سکولوں سے نکال دیا گیا ہے آل پاکستان کلرک ایسویسی ایشن نصیرآباد کے صدر بابو خام حسین ڈومکی پیرا میدیکل ایسوسی ایشن نصیرآباد کے صدر کامریڈ نذیراحمد مستوئی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ نیشنل بنک کے عملے کی غلط پالیسوں سے بنک کو مفلوج بنا دیا گیا ہے سات مئی سے بنک میں کیشن موجود نہ ہونے کی وجہ سے سرکاری ملازمین پینشنئرز عام کھاتہ دار شدید گرمی مین در پدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں کوئی پرسان حال نہیں ہے سرکاری ملازمین پریشان گھروں راشن ختم ہوچکا ہے عملے کا رویہ بھی انتہائی قابل برداشت ہے انہوں نے کہاکہ نیشنل بنک کے اعلیٰ حکام نے نوٹس نہیں لیا تو سرکاری ملازمین منیجر اور عملے کے خلاف احتجاج کرنے پر مجبور ہو جائے گا ۔