کیوں بدنام کررہے ہو؟عمران خان عدالت کےلاڈلے نہیں، چیف جسٹس

آپ کیوں تاثردےرہےہیں عدالت نےعمران خان کوغیرقانونی تعمیرپررعایت دی،وضاحت کریں ورنہ ایکشن لیں گے۔چیف جسٹس ثاقب نثارکےبنی گالہ تجاوزات ازخود نوٹس کیس میں ریمارکس، سریہ رعایت عدالت نےنہیں، ہم نےخود بنی گالا کےرہائشیوں کو دی۔وفاقی وزیرکیڈ طارق فضل چودھری کا مکالمہ

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار مئی 13:09

کیوں بدنام کررہے ہو؟عمران خان عدالت کےلاڈلے نہیں، چیف جسٹس
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔13مئی 2018ء) : چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثارنے عمران خان کوبنی گالہ کیس میں رعایت دینے پروفاقی وزیرکولاجواب کردیا۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے وفاقی وزیر کیڈ طارق فضل چوہدری نے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان عدالت کے لاڈلے نہیں ہے،آپ کیوں عدالتوں کو بدنام کرنا چاہتے ہیں،آپ کیوں تاثردے رہےہیں عدالت نےعمران خان کوغیرقانونی تعمیر پررعایت دی،وضاحت کریں ورنہ ایکشن لیں گے،جس پرطارق فضل چودھری نے بتایا کہ سریہ رعایت عدالت نےنہیں، ہم نےخود بنی گالا کےرہائشیوں کو دی۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں آج چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنی گالہ تجاوزات ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عمران خان عدالت کے لاڈلے نہیں ہے۔

(جاری ہے)

عدالت نے وزیرکیڈ طارق فضل چودھری کو روسٹرم پر طلب کرلیا۔ چیف جسٹس نے وفاقی وزیر کیڈ طارق فضل چودھری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہ تاثرکیوں دے رہے ہیں کہ عدالت نےعمران خان کوغیرقانونی تعمیر پررعایت دی؟ وضاحت کریں ورنہ ایکشن لیں گے۔

جس پرطارق فضل نے بتایا کہ سر یہ رعایت عدالت نے نہیں بلکہ ہم نے خود بنی گالا کے رہائشیوں کو دی۔۔چیف جسٹس نے طارق فضل چودھری کو ہدایت کی کہ ایک بار پھر اونچی آواز میں وضاحت کریں۔جس پرطارق فضل چودھری نے پھربتایا کہ یہ رعایت ہم نے دی جو صرف عمران خان کیلئے نہیں بلکہ 10 لاکھ لوگوں کیلئے تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عمران خان عدالت کے لاڈلے نہیں ہے۔

آپ کیوں عدالتوں کو بدنام کرنا چاہتے ہیں۔ مریم اورنگزیب کیوں یہ بیان دے رہی ہیں عمران خان کو ہم نے رعایت دی۔ آپ بتائیں، یہ رعایت آپ نے خود نہیں دی؟ سپریم کورٹ میں بنی گالہ تجاوزات ازخود نوٹس کی سماعت 2 ہفتوں کیلئے ملتوی کردی ہے۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے آج پی آئی اے پر قومی پرچم کی بجائے مارخور جانور کی تصویر لگانے کا بھی نوٹس لینے کے کیس کی سماعت کی۔

سپریم کورٹ نے پی آئی اے کوجہازوں سے قومی پرچم ہٹانے سےروک دیا، انہوں نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے جہاز پرجھنڈے کی جگہ ایک جانور کی تصویر لگائی جارہی ہے۔ایک جانور کے پینٹ ہونے پر کتنی لاگت آئے گی؟ ایم ڈی پی آئی اے نے عدالت کوبتایا کہ ایک جہاز پر27 لاکھ کی لاگت آئے گی۔ مارخورقومی جانور ہے اسکی تصویرپینٹ کررہے ہیں۔

ہرجہازکو4 سال بعد دوبارہ پینٹ کرنا ہوتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لاگت 27 نہیں 34 لاکھ روپے ہے۔ چیف جسٹس نے ایم ڈی پی آئی اے سے استفسار کیا کہ آپ کی بھابی پی آئی اے میں کیا کررہی ہیں؟میرا کوئی رشتےدار پی آئی اے میں نہیں۔ حلفاً کہتا ہوں کسی رشتےدار کو بھرتی نہیں کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی تعیناتی کےخلاف درخواست بھی زیرالتواء ہے۔

اب تک صرف ایک جہازکو ہی پینٹ کیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا پی آئی اے منافع میں ہے جو ایسے کام کررہی ہے۔حکومت نے پی آئی اے کو 20 ارب کا بیل آؤٹ پیکیج دیا ہے۔ پیسےپی آئی اے کی بہتری کیلئے دیئےہیں پینٹ کیلئےنہیں۔ چیف جسٹس نے بتایا کہ کل رات میری فلائٹ بھی ڈیڑہ گھنٹہ تاخیر کا شکار ہوئی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر کی کیا وجہ ہے؟ ایم ڈی پی آئی اے نے جواب دیا کہ جہاز کی مرمت تاخیر کہ وجہ بنی۔