صحافیوں کا کمشنر کراچی کے نامناسب رویئے کیخلاف سندھ اسمبلی پریس گیلری میں احتجاج

صحافیوں نے کمشنر کراچی کے رویئے اور حکومتی بے حسی کے خلاف بھی نعرے لگائے احتجاج کے دوران گو کمشنر گوکے نعرے لگائے کمشنر کیخلاف کارروائی نہ ہوئی تو روزانہ کی بنیاد پر سندھ اسمبلی کی پریس گیلری سے علامتی واک آئوٹ کیا جائیگا، صحافیوں کا فیصلہ

پیر مئی 16:10

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) صحافیوں نے دوسرے روز بھی کمشنر کراچی کے صحافیوں کے ساتھ نامناسب رویئے کے خلاف سندھ اسمبلی پریس گیلری میں احتجاج کرتے ہوئے کمشنر کراچی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پیرکوسندھ اسمبلی کے اجلاس میں فاتحہ خوانی کے بعد صحافیوں نے پریس گیلری میں پر امن احتجاج کیا صحافیوں نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر کمشنر کے خلاف نعرے درج تھے صحافیوں نے کمشنر کراچی کے رویئے اور حکومتی بے حسی کے خلاف بھی نعرے لگائے احتجاج کے دوران گو کمشنر گو، نامنظور نامنظور حکومتی بے حسی نامنظور کے نعرے لگائے۔

ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا نے صحافیوں کے احتجاج کا نوٹس لیا اور حکومتی ارکان کو صحافیوں سے مذاکرات کے لئے کہا تاہم کسی حکومتی رکن یا وزیر نے میڈیا نمائندوں سے مذاکرات نہیں کئے۔

(جاری ہے)

صوبائی وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ نے ایوان میں کہا کہ حکومت کمشنر کے خلاف ایکشن لے گی۔پی ایس پی ارکان نے صحافیوں سے پریس گیلری میں ملاقات کی پی ایس پی ارکان ندیم راضی اور ارتضی فاروقی نے صحافیوں کو اپنے مکمل یقین دہانی کرائی اور ایوان میں جاکر صحایوں کے احتجاج کا معاملہ اٹھایا۔

صحافیوں نے پی ایس پی اراکین سے اظہار تشکر کیا۔ اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا نے صحافیوں کے احتجاج کی جانب دوبارہ توجہ مبذول کرائی۔صحافیوں نے کہاکہ صحافی بھی انسان ہیں ان کی تذلیل پر پیپلزپارٹی کی پوری حکومت خاموش ہے اور ایک بااثر کمشنر کے سامنے حکومت ڈھیر ہوگئی ہے۔ صحافیوں نے کہاکہ سندھ حکومت کمشنر کراچی کے خلاف ایکشن لینے سے گریز کررہی ہے حکومتی زبانی یقین دہانی پر صحافیوں نے یقین کرنے سے انکار کردیا اور فیصلہ کیا کہ کمشنر کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو روزانہ کی بنیاد پر سندھ اسمبلی کی پریس گیلری سے علامتی واک آئوٹ کیا جائیگا۔