نوازشریف کےبیان کی تحقیقات ہونی چاہیے،مولانا فضل الرحمن

بیان کودیکھا جائےکہ حقیقت کیا ہے؟ نوازشریف3 باروزیراعظم رہے،بیان کوسنجیدہ لینا چاہیے،جوبیان نہیں دینا چاہیےتھا،نوازشریف نےدے دیا۔سربراہ متحدہ مجلس عمل کی میڈیا سے گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ پیر مئی 16:25

نوازشریف کےبیان کی تحقیقات ہونی چاہیے،مولانا فضل الرحمن
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔14مئی 2018ء) : متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ نوازشریف کےبیان کی تحقیقات ہونی چاہیے، نوازشریف 3 بار وزیراعظم رہے، ان کے بیان کوسنجیدہ لینا چاہیے،جوبیان نہیں دینا چاہیے تھا، نوازشریف نےدے دیا۔ متحدہ مجلس عمل کےسربراہ مولانافضل الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حساس موضوع جن سے ملکی سکیورٹی کوخطرہ ہو اس پربیان نہیں دینا چاہیے۔

جوبیان نہیں دینا چاہیے تھا، نوازشریف نےدے دیا۔ انہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف3 بار وزیر اعظم رہے،ان کےبیان کوسنجیدہ لینا چاہیے۔ نوازشریف کے بیان کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ مولانافضل الرحمان نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا راستہ کھلا رکھا ہے۔

(جاری ہے)

واضح رہے آج قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا ۔ جس میں نوازشریف کے بیان کی مذمت کی گئی اور بھارتی پروپیگنڈے کو بھی مسترد کیا گیا ہے۔

اجلاس کے بعد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی نوازشریف کے ساتھ کھڑا ہوں۔ نوازشریف کے ساتھ شہباز شریف اور پوری پارٹی کھڑی ہوئی ہے۔ہم ملکر الیکشن میں پوری تیاری کے ساتھ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ 12مئی سےنوازشریف کا بیان چل رہا ہے۔ نواز شریف نے اس قسم کا بیان نہیں دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ بیان کی غلط تشریح کی گئی ہے۔

موجودہ صورتحال میں غلط فہمیا ں بڑھ گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نےکہا ان کا انٹرویوغلط اندازمیں پیش کیا گیا۔ نواز شریف نے کہا میری بات کو مس رپورٹ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نہ نوازشریف نے یہ بات کی اور نہ ہی انکا مفروضہ تھا۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے کسی بھی جگہ یہ نہیں کہا کہ ہندوستان میں حملوں کیلئے عسکریت پسندوں کویہاں سے بھیجا گیا تھا۔

تاہم ہندوستان کے میڈیا نے معاملہ پیچیدہ کیا ہے۔یہ وضاحت میں کسی کے کہنے پر نہیں دے رہا بلکہ خود اس بات پراپنا مئوقف پیش کرنا چاہتا ہوں۔۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اپنے ملک کی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے نہیں دیا جائیگا۔۔نواز شریف نےنہیں کہا کہ حملہ آور منصوبہ یا پلان بناکر یہاں سے بھیجے گئے۔نہ نواز شریف نے یہ بات کی اور نہ ہی انکا یہ مطلب تھا۔

نواز شریف کی بات کی غلط تشریح کی گئی۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ قومی سیکیورٹی اجلاس کے بعد نوازشریف سے ملاقات کی۔ نواز شریف کا بیان جس میں ملی ٹینٹس اور نان اسٹیٹ ایکٹرز کا ذکر ہے مس کوڈ ہوا۔ نواز شریف نےکہا ان کا انٹرویوغلط اندازمیں پیش کیا گیا،میری بات کو مس رپورٹ کیا گیا۔ وزیراعظم نے ایک سوال پرمزید کہا کہ آج بھی نوازشریف کے ساتھ کھڑا ہوں۔

پوری ن لیگ اورشہبازشریف نوازشریف کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ 31مئی کی رات 12بجے تک وزیراعظم ہوں۔نہ استعفے کاسوچ رہاہوں ،نہ استعفی دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ بطور پاکستانی ہمیں بھارتی میڈیا کے عزائم کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔۔بھارتی میڈیا نے ناپاک عزائم کے تحت نواز شریف کے بیان کو اچھالا۔ نوازشریف نےواضح کیا پاکستان کی سرزمین غیرریاستی عناصر کواستعمال کرنیکی اجازت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی نے نوازشریف کی نہیں بلکہ ان الفاظ کی مذمت کی جوغلط پیش کیے گئے۔