ملک میں آب پاشی کیلئے پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی

مون سون سے قبل پانی کی صورت حال میں بہتری کا کوئی امکان نہیں ،ْمحکمہ موسمیات سندھ تونسہ سے کوٹری بیراج تک 10 لاکھ ایکڑ فٹ پانی کا نقصان کر رہا ہے ،ْ اعداد و شمار درست نہیں بتاتا ،ْارسا

بدھ مئی 13:25

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) ملک میں آب پاشی کیلئے پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی جبکہ محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ مون سون سے قبل پانی کی صورت حال میں بہتری کا کوئی امکان نہیں ،ْخریف کی فصل کیلئے پانی کی صورت حال پر اسلام آباد میں ارسا ایڈوائزری کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ہوا۔ ترجمان ارسا کے مطابق اجلاس کو بتایا گیا کہ فصل خریف کے آغاز میں پانی کی قلت کا تخمینہ 31 فیصد لگایا گیا تھا مگر دریاؤں میں پانی کی آمد توقع سے 15 فیصد کم رہی۔

(جاری ہے)

ترجمان کے مطابق سندھ کو پانی کی قلت 53 فیصد اور پنجاب کو 47 فیصد تک پہنچ چکی ہے ،ْ مون سون کا سلسلہ جون کے وسط میں متوقع ہے۔۔واپڈا حکام نے بتایا کہ دریاؤں کے کیچمنٹ ایریاز میں برف بھی پچھلے برسوں کے مقابلے میں 50 فیصد کم ہے۔ترجمان ارسا کے مطابق پنجاب نے اعتراض اٹھایا کہ سندھ تونسہ سے کوٹری بیراج تک 10 لاکھ ایکڑ فٹ پانی کا نقصان کر رہا ہے اور اعداد و شمار درست نہیں بتاتا۔ترجمان کے مطابق حالیہ بارشوں کی وجہ سے پنجاب کو پانی کی سپلائی 56 ہزار سے بڑھا کر 64 ہزار کیوسک اور سندھ کو 43 ہزار کیوسک سے بڑھا کر 55 ہزار کیوسک کی گئی ہے۔دوسری جانب بلوچستان کو 5 ہزار ،ْ خیبرپختونخوا کو 3100 کیوسک پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔