کاشتکاردھان کی موٹی اقسام کی پنیری کاشت 20 مئی سے شروع کریں،محکمہ زراعت

جمعرات مئی 14:04

لاہور۔17 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مئی2018ء) کاشتکاردھان کی موٹی اقسام کی پنیری کی کاشت 20 مئی سے شروع کریں ۔بیج سے پھیلنے والی بیماریوں کے تدارک کیلئے بیج کو مناسب پھپھوندکش زہر ضرور لگائیں۔ پنیری کی کاشت کیلئے سفارش کردہ اقسام کاصاف ستھرا اور صحتمند بیج استعمال کریں۔محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان کے مطابق ایک ایکڑ پنیری کو اگانے کیلئے موٹی اقسام کا شرح بیج تر یا کدو کے طریقہ میں 7-6 کلوگرام، خشک طریقہ میں 10-8 کلوگرام اور راب کے طریقہ میں 15-12 کلوگرام استعمال کریں ۔

انھوں نے مزید بتایا کہ دھان کی پنیری کو کدو طریقہ کاشت کیلئے پہلے کھیت میں ایک سے دو مرتبہ خشک ہل چلائیں اور پنیری بونے سے تین دن پہلے کھیت کو پانی سے بھر دیں پھرجمع شدہ پانی میں دوہرا ہل چلائیں اور سہاگہ دیں۔

(جاری ہے)

کھیت کو دس، دس مرلہ کے پلاٹوں میں تقسیم کر کے انگوری مارے ہوئے بیج کا چھٹہ دیں۔ چھٹہ دیتے وقت کھیت میں ایک تا ڈیڑھ انچ پانی جمع ہونا چاہیے۔

اس طریقہ کاشت سے پنیری 25 تا 30 دن میں تیار ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہخشک طریقہ کاشت میںزمین کو پانی دے کر وتر حالت میں لائیں اور پھر دوہرا ہل اور سہاگہ دے کر کھیت کو کھلا چھوڑ دیں۔ کاشت سے پہلے دوہرا ہل چلا کر سہاگہ دیں اور تیار شدہ کھیت میں خشک بیج کا چھٹہ دیں۔ پھر اس پر روڑی، توڑی، پھک یا پرالی کی ایک انچ موٹی تہہ بکھیر دیں اس کے بعد پانی لگائیں۔

اس طریقہ سے پنیری 35 تا 40 دن میں تیار ہو جاتی ہے۔راب کا طریقہ کاشت میںخشک زمین میں 3 تا 4مرتبہ ہل چلا کر سہاگہ دے کر زمین کو باریک اور بھربھرا کر لیں۔ ہموار کردہ کھیت میں گوبر، پھک یا پرالی کی 2 انچ تہہ ڈال کر آگ لگا دیں۔ راکھ ٹھنڈی ہونے پر زمین میں ملا دیں بعد ازاں بیج بحساب سفارش کردہ مقدار چھٹہ دیں۔ کیاریوں کو پانی آہستہ آہستہ لگائیں۔ دھان کی پنیری کے اگائو کے بعد ایک پائو یوریا کھاد یا آدھا کلو گرام امونیم سلفیٹ فی مرلہ کے حساب سے استعمال کریں۔ نرسری کیلئے زمین کی تیاری کے دوران 33 فیصد والا زنک سلفیٹ بحساب 30 کلوگرام فی ایکڑ ڈالیں۔

متعلقہ عنوان :