امریکی سفارتکاروں کو سابق حکومتوں کی جانب سے گئی رعائتیں موجودہ حکومت نے واپس لی ہیں، امریکی سفارتکار کرنل جوزف سفارتی استثنیٰ کے تحت واپس چلے گئے، دیت دینے کا کوئی علم نہیں، نہتے فلسطینیوں کے قتل عام اور ان پر تشدد کی پر زور مذمت اور اس معاملے پر او آئی سی کا غیر معمولی اجلاس طلب کرنے کی حمایت کرتے ہیں، وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی(آج)جمعہ کو او آئی سی سربراہ اجلاس میں شرکت کیلئے روانہ ہونگے، پاکستان ہمسایہ ملک کی حیثیت سے ایران کے ساتھ رابطے جاری رکھے گا اور تہران کیخلاف یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کریگا، بھارتی میڈیا پاکستان کے حوالے سے معاملات کو بڑھاچڑھا کر پیش کرنے کے بجائے اپنے اندرونی معاملات پر توجہ دے، نئی دہلی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے متعلق تحقیقات کیلئے او آئی سی فیکٹ فائنڈنگ مشن کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت دے، بھارت کا بین الابراعظمی بیلسٹک میزائل پروگرام یورپ، چین سمیت عالمی برادری کیلئے باعث تشویش اوربھارتی پالیسیاں خطے کے امن و استحکام کو خطرہ ہیں

دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کی ہفتہ وار پریس بریفنگ

جمعرات مئی 15:55

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مئی2018ء) دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ امریکی سفارتکاروں کو سابق حکومتوں کی جانب سے گئی رعائتیں موجودہ حکومت نے واپس لی ہیں، امریکی سفارتکار کرنل جوزف سفارتی استثنیٰ کے تحت واپس چلے گئے، دیت دینے کا کوئی علم نہیں، نہتے فلسطینیوں کے قتل عام اور ان پر تشدد کی پر زور مذمت اور اس معاملے پر او آئی سی کا غیر معمولی اجلاس طلب کرنے کی حمایت کرتے ہیں، وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی(آج)جمعہ کو او آئی سی سربراہ اجلاس میں شرکت کیلئے روانہ ہونگے، پاکستان ہمسایہ ملک کی حیثیت سے ایران کے ساتھ رابطے جاری رکھے گا اور تہران کیخلاف یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کریگا، بھارتی میڈیا پاکستان کے حوالے سے معاملات کو بڑھاچڑھا کر پیش کرنے کے بجائے اپنے اندرونی معاملات پر توجہ دے، نئی دہلی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے متعلق تحقیقات کیلئے او آئی سی فیکٹ فائنڈنگ مشن کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت دے، بھارت کا بین الابراعظمی بیلسٹک میزائل پروگرام یورپ، چین سمیت عالمی برادری کیلئے باعث تشویش اوربھارتی پالیسیاں خطے کے امن و استحکام کو خطرہ ہیں۔

(جاری ہے)

جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران امریکی سفارتکار سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ امریکی سفارتکار کرنل جوزف کو سفارتی استثنیٰ حاصل تھا اور وہ واپس چلے گئے ہیں، دیت دینے کے معاملے کا کوئی علم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی سفارتکار کو کوئی خصوصی رعائت نہیں دی بلکہ موجودہ حکومت نے امریکی سفارتکاروں کو سابق حکومتوں کی جانب سے دی گئی رعائتیں واپس لی ہیں۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی اورامریکی سفارتکاروں پر نقل وحرکت سے متعلق پابندیاںنافذالعمل ہوچکی ہیں اور اب دونوں ملکوں کے سفارتکاروں کو 25 مربع کلو میٹر کی حدود سے باہرسفر کیلئے پیشگی اجازت لینا ہو گی۔ ترجمان نے امریکی سفارتخانے کی القدس منتقلی کے بعد اسرائیلی فورسز کی جانب سے نہتے فلسطینیوں کے قتل عام اور ان پر تشدد کی پر زور مذمت کی اور کہا کہ اس معاملے پر پوری امت مسلمہ متحد ہے۔

انہوں نے ترکی کی جانب سے اس معاملے پر او آئی سی کا غیر معمولی اجلاس طلب کرنے کی حمایت کی اور کہا کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی(آج)جمعہ کو او آئی سی سربراہ اجلاس میں شرکت کیلئے روانہ ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینی تنازعہ کے دو ریاستی حل اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل پر یقین رکھتا ہے۔بھارت کی جانب سے پاکستانی فنکاروں اور ادبی شخصیات کو اجازت نہ دینے سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ فیض احمد فیض کی بیٹی منزہ ہاشمی کو بھارت بلا کر محصور کرنا اور انہیں خطاب کی اجازت نہ دینا قابل مذمت ہے۔

ترجمان نے کہا کہ یہ ہماری روایات کے برعکس عمل ہے۔ بھارتی فنکار اور ادبی شخصیات بھی پاکستان آتی رہتی ہیں لیکن ان کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا جاتا۔ بھارتی آئی سی بی ایم پروگرام سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ بھارت کا بین الابراعظمی بیلسٹک میزائل پروگرام یورپ، چین سمیت عالمی برادری کیلئے باعث تشویش ہے۔ بھارتی پالیسیوں سے خطے کے امن و استحکام کو خطرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان صبر و تحمل کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ملکی دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔