ماہرین زراعت نے کاشتکاروں کو ٹیوب ویل کے پانی سے سیراب ہونے والی اراضی کو نائٹروجنی و فاسفورسی کھاد کے علاوہ پوٹاش کی کھاد بھی ڈالنے کی ہدایت کر دی

ہفتہ مئی 13:57

فیصل آباد۔19 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 مئی2018ء) ماہرین زراعت نے کہا ہے کہ کپاس کی بہتر فصل کے حصول کیلئے متناسب کھادوں کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے لہٰذا کاشتکار ماہرین زراعت اور محکمہ زراعت کے فیلڈ سٹاف کی مشاورت سے متناسب کھادوں کا بروقت استعمال یقینی بنائیں تاکہ کپاس کی معیاری اور فی ایکڑ بہترین پیداوار کا حصول ممکن ہو سکے۔

ایک ملاقات کے دوران انہوںنے کہا کہ کاشتکاروں کو چاہیے کہ وہ زیادہ پیداوار کے حصول کیلئے کپاس کی بروقت کاشت کا عمل جلد از جلد مکمل کر لیں تاکہ پودے توانا اور مضبوط ہو سکیں اور فصل وائرس اور کیڑوں کا مقابلہ کرنے کی بھی صلاحیت کی حامل بن سکے۔انہوںنے کہا کہ جن زمینوں میں صرف ٹیوب ویل کا پانی لگ رہا ہے وہاں نائٹروجنی اور فاسفورسی کھاد کے علاوہ پوٹاش کھاد بھی ضرور استعمال کی جائے ۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ اس کام سے بڑھوتری میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔انہوںنے کہا کہ کپاس کی اگیتی فصل اس وقت نرم حالت میں ہونے کی وجہ سے لشکری سنڈی کے حملہ کے خطرہ سے دوچار ہو سکتی ہے لہٰذا ایسی کسی بھی علامت یا شکائت کا تدارک بروقت ضروری ہے۔انہوںنے کہا کہ درجہ حرارت میں اضافہ تھرپس کے حملے اور جوڑی کی تعداد میں اضافہ کا بھی موجب ہو سکتا ہے لہٰذا ان پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔انہوںنے کپاس کے کاشتکاروں کو ہدائت کی کہ وہ محکمہ زراعت کے عملہ سے مسلسل رابطہ میں رہیں اور ضرورت پڑنے پر سفارش کردہ زہروں کا فوری استعمال یقینی بنائیں کیونکہ بیماری کے حملہ کی صورت میں زرا سی بھی کوتاہی فصل کے بڑے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

متعلقہ عنوان :