خواجہ آصف نے نااہلی کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں جواب جمع کرادیا

ہفتہ مئی 16:14

خواجہ آصف نے  نااہلی کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں جواب جمع کرادیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 مئی2018ء) سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے اپنی نااہلی کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں جواب جمع کرادیا ہے جس میں عدالت اسلام آباد ہائِی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے جبکہ تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار نے بھی معاملے پر متفرق درخواست دائر کردی ہے اور عدالت سے خواجہ آصف کی اپیل خارج کرنے کی استدعا کرتے ہوے ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھنے کی استدعا کی ہے ہفتے کے روز خواجہ آصف کے وکیل منیر اے ملک کے ذریعے جمع کراے گئے ،تحریری بیان میں خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ بطور رکن اسمبلی ملازمت کرنے پر کوئی قدغن نہیں ،اسلام آباد ہائی کورٹ نے یو اے ای کے قانون کی غلط تشریح کی ہے ،وہاں کا قانون فریقین کو باہمی شرائط طے کرنے کی اجازت دیتا ہے ،خواجہ آصف نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ عدالت عالیہ نے جن نکات پر نااہل کیا وہ نکات درست نہیں ہیں ، کاغذات نامزدگی میں اپنا پیشہ کاروبار بتانا غلط نہیں ہے کیوں کہ خواجہ آصف کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ کاروبار سے ہی ہے ،خواجہ آصف کے دبئی کے اکائونٹس میں کھبی کوئی ٹرانزیکشن نہیں ہوئی ، بند اکاونٹ کو ظاہر کرنا ضروری نہیں ہے ، غلطی کا ادراک ہونے پر اکائونٹ اثاثوں میں ظاہر کردیا تھا ،اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلے میں حقائق کو مد نظر نہیں رکھا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے ، دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار نے بھی خواجہ آصف کی نااہلی کے معاملے پر سپریم کورت میں متفرق درخواست دائر کردی ہے جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو قانون کے عین مطابق قرار دیتے ہوئے عدالت سے فیصلہ برقراررکھنے کی استدعا کی گئی ہے ،عثمان ڈار نے اپنی متفرق درخواست میں کہا ہے کہ خواجہ آصف نے جان بوجھ کر اثاثے ظاہر نہیں کیے ، آثاثے چھپانے کا مقصد آمدن کے ذرائع چھپانا ہوتا ہی۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :