ترقیاتی حکمت عملی میں شفافیت اور عوامی فلاح کا عنصر نمایاں ہونا چاہئے،پرویزخٹک

ترقیاتی عمل میں پس و پیش کرنا ، رکاوٹیں ڈالنا مخصوص مائنڈ سیٹ ہے جو ناقابل برداشت ہے ،اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے،وزیراعلی خیبرپختونخوا

منگل مئی 19:20

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے ہدایت کی ہے کہ ترقیاتی حکمت عملی میں شفافیت اور عوامی فلاح کا عنصر نمایاں ہونا چاہیئے ۔ ترقیاتی عمل میں پس و پیش کرنا اور رکاوٹیں ڈالنا ایک مخصوص مائنڈ سیٹ ہے جو ناقابل برداشت ہے اور اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔ وہ وزیراعلیٰ ہائوس پشاور میں اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔

ایم پی اے شوکت علی یوسفزئی اورپی ڈی اے کے اعلیٰ افسران بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پرترقیاتی حکمت عملی میں شفافیت کی ضرورت اور اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ انکی حکومت کا خاصہ ہے کہ اس نے ماضی کی مروجہ بد عنوان سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کی اور ہر سطح پر شفافیت کا عنصر متعارف کرایا۔ انہوںنے کہاکہ حکومت کے شفاف طرز عمل سے خائف عناصر نے بہت پروپیگنڈہ کیا مگر ہم نے ترجیحات نہ بدلیں کیونکہ عوامی فلاح کے منصوبوں اور عوامی خدمات کے اداروں میں کرپشن برداشت نہیں کر سکتے ۔

(جاری ہے)

وزیراعلیٰ نے کہاکہ ایک کرپٹ آدمی کرپشن سے اپنا دامن نہیں بچا سکتا۔ سب کچھ میسر ہوتے ہوئے بھی کرپٹ تک کرپشن نہ کرکے اسے ذہنی سکون نہیں ملتا جو بہت بڑی بیماری ہے انہوںنے کہاکہ کرپشن کے خلاف جنگ میں ہمیں بہت کچھ دیکھنے اور سمجھنے کو ملا ہے ۔ ایک معمولی سا انسان تھاجسے تحریک انصاف نے عزت دی مگر اسے عزت راس نہ آئی اور اس نے اپنی اصلیت ظاہر کر دی اب ایک کرپٹ آدمی کی گود میں بیٹھ کر ٹائیں ٹائیں کر رہا ہے چونکہ بے شرمی اور کرپشن اس کے خمیر میں شامل تھی اسلئے اب وہ اپنی اصلیت کے مطابق اپنی اصل جگہ کرپٹ ماحول میں پہنچ گیا ہے ۔

کرپشن کے آلے کرپٹ سسٹم میں ہی فٹ ہوتے ہیں۔ انکی ابتداء و انتہاء دونوں میں کرپشن بھی نمایاں ہوتی ہے ایک کرپٹ شخص پی ٹی آئی کا حصہ نہیں بن سکتا ۔ اسلئے کرپٹ کردار کو باہر نکالنے کا سلسلہ جاری رہے گا کیونکہ پی ٹی آئی اور کرپشن دو متضاد چیزیں ہیں جو ایک ساتھ نہیں چل سکتیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ شفافیت ، میرٹ اور قانون کی بالادستی کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ شفاف ترقیاتی عمل کیلئے ضروری ہے کہ عوامی فلاح ہر سطح پر نمایاں رہے ۔ انہوںنے پی ڈی اے کو بھی اپنے کا م میں تیزی لانے کی ہدایت کی اور عندیہ دیا کہ معیار پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ وسائل موجودہیں تو ترقیاتی عمل بھی تیز تر ہونا چاہیئے ۔ عوام کی مشکلات پر توجہ دیں اور ان کے حل کیلئے راستے نکالیں۔