حکومت بتائے کرنل جوزف کو کیوں جانے دیا گیا ، شیریں مزاری

جب بھی کوئی غیر ملک جرم کرتا ہے تو ہم اس کو جانے دیتے ہیں،قتل کے معاملے میں کسی سفارتکار کو بھی استشنی نہیں ہوتا،سفارتی استثنیٰ کا یہ مطلب نہیں کہ لوگوں کی جانیں لے لو،حکومت ایوان میں جواب دے اس نے یہ غلامی کیوں قبول کی راہنما تحریک انصاف کا قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب

منگل مئی 20:56

حکومت بتائے کرنل جوزف کو کیوں جانے دیا گیا ، شیریں مزاری
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) پاکستان تحریک انصاف کی راہنما ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ حکومت بتائے کہ کرنل جوزف کو کیوں جانے دیا گیا ،جب بھی کوئی غیر ملک جرم کرتا ہے تو ہم اس کو جانے دیتے ہیں،،قتل کے معاملے میں کسی سفارتکار کو بھی استشنی نہیں ہوتاسفارتی استشنی کا یہ مطلب نہیں کہ لوگوں کی جانیں لے لو،حکومت ایوان میں جواب دے اس نے یہ غلامی کیوں قبول کی۔

(جاری ہے)

قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کی راہنما ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا حکومت بتائے کہ کرنل جوزف کو کیوں جانے دیا گیا بتایا جائے باگرام ایئربیس سے کیسے امریکہ طیارہ چکلالہ ایئربیس آکر کھڑا رہا ایک دن ڈرامہ کیا گیا طیارہ واپس بھجوا دیا گیا ایک روز بعد خاموشی سے کرنل جوزف کو اس کے ملک بھیج دیا گیا جب بھی کوئی غیر ملک جرم کرتا ہے تو ہم اس کو جانے دیتے ہیں۔

قتل کے معاملے میں کسی سفارتکار کو بھی استشنی نہیں ہوتاسفارتی استشنی کا یہ مطلب نہیں کہ لوگوں کی جانیں لے لو۔ امریکہ سعودی سفارتکار سے استشنی واپس کروا کر قتل کرنے والے سعودی کو سات سال سزا دے چکا ہے کرنل جوزف کا غلط استشنی دیا گیا ویانا کنونشن سے ثابت کرسکتی ہوں حکومت ایوان میں جواب دے اس نے یہ غلامی کیوں قبول کی۔