سیاسی جماعتوں سے دھڑا دھڑ سیاستدانوں کی پی ٹی آئی میں شمولیت

پی ٹی آئی چئیرمین نے بڑا فیصلہ کر لیا ، اب پی ٹی آئی میں شمولت اختیار کرنا آسان نہ ہو گا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین بدھ مئی 11:34

سیاسی جماعتوں سے دھڑا دھڑ سیاستدانوں کی پی ٹی آئی میں شمولیت
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 23 مئی 2018ء) : گزشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں شاہ محمود قریشی ، عارف علوی ، شیریں مزاری ،،جہانگیر ترین ، اسد عمر اور دیگر مرکزی رہنما شریک تھے۔ اجلاس میں عام انتخابات اور دیگر معاملات پر بات کی گئی۔ اجلاس میں نگران حکومت سے متعلق پارٹی کے وائس چئیرمین شاہ محمود قریشی نے تفصیلی بریفنگ دی ، اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ جسٹس(ر))تصدق حسین جیلانی،،ڈاکٹرعشرت حسین ،عبدالرزاق داؤد نگران وزیر اعظم کے عہدے کے لیے بہترین انتخاب ہیں اور ان تینوں شخصیات میں سےکسی ایک کونگران وزیراعظم مقررکیا جانا چاہئیے۔

اس موقع پر عام انتخابات میں پارٹی ٹکٹوں کے اجرا کے لیے پارلیمانی بورڈ کےاجلاس کی فوری طلبی پر بھی باہمی اتفاق ہوا۔

(جاری ہے)

اجلاس میں خیبرپختونخوامیں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی کارکردگی کاخصوصی جائزہ لیا گیا اور تحریک انصاف نے پرویزخٹک اوران کی کابینہ کوخصوصی خراج تحسین پیش کیا جبکہ پنجاب حکومت کے خلاف وائٹ پیپر شائع کرنے کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔

دوسری جانب پارٹی کی مقبولیت نے پارٹی چئیرمین عمران خان کے لیے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ دوسری جماعتوں سے دھڑا دھڑ رہنما پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔ تاہم اب پی ٹی آئی میں بآسانی شمولیت کے راستے بند کر کے کپتان نے ایک کمیٹی بنا دی ہے، پی ٹی آئی میں شمولیت کے خواہشمند افراد کو کمیٹی سے منظوری لینا ہو گی ۔ ذرائع نے بتایا کہ پارٹی اجلاس میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایک نا اہل شخص پارٹی عہدہ بھی نہیں رکھ سکتا، جس پر جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی میں نوک جھوک ہو گئی، عمران خان کی جانب سے تشکیل دی جانے والی کمیٹی آٹھ رکنی ہے،اس کمیٹی میں شاہ محمود قریشی ، جہانگیر ترین ،چودھری سرور،عارف علوی ، عمران اسماعیل سمیت خیبر پختونخواہ اور پنجاب سے دیگر نمائندے شامل ہیں، اس کمیٹی کو اسکیننگ کمیٹی کا نام دیا گیا ہے جو پارٹی میں شمولیت کے ہر رہنما کو اسکین کرے گی اور متعلقہ حلقے میں دیکھا جائے گا کہ آیا اس میں حلقے میں پی ٹی آئی کا کوئی مضبوط اُمیدوار ہے یا نہیں، اگر مضبوط اُمیدوار ہوا تو اس سیاسی رہنما کو پارٹی میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

اور اگر حلقے میں پی ٹی آئی کا اُمیدوار کمزور ہو تو اسکین کرنے اور معلومات لینے کے بعد کمیٹی پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان سے اس سیاسی رہنما کی ملاقات کروائے گی،اب سے پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان سے پارٹی میں شمولیت کے خواہشمند افراد کی براہ راست ملاقات پر پابندی ہو گی۔