اے بی ڈی ویلیئرز کا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

حقیقت تو یہ ہے کہ میں اب کرکٹ سے تھک چکا ہوں:سابق پروٹیز کپتان

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین بدھ مئی 16:36

اے بی ڈی ویلیئرز کا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان
کیپ ٹاﺅن(ا ردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔23مئی 2018 ء) جنوبی افریقا کے مایاناز بیٹسمین اے بی ڈویلیئرز نے تمام طرز کی انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرکے دنیا کرکٹ کو حیران کر دیا ہے۔اے بی ڈویلیئرز نے ریٹائرمنٹ کا اعلان اپنی موبائل ایپ پر ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے کیا۔ اپنے ویڈیو پیغام میں سابق جنوبی افریقی کپتان کا کہنا تھا کہ اب وہ بین الاقوامی کرکٹ سے تھک چکے ہیں، اب وقت ہے کہ میری جگہ جنوبی افریقی ٹیم میں نوجوان کھلاڑیوں کو شامل کیا جائے، ڈی ویلیئرز کا کہنا تھا کہ ان کے لیے یہ ایک مشکل ترین فیصلہ تھا،میں نے اس حوالے سے طویل سوچا و بچار کی لیکن میرا خیال ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ میں ریٹائر ہو جاﺅں۔

انہوں نے اس موقع پر اپنے ساتھی کھلاڑیوں، فینز اور کرکٹ جنوبی افریقا کا بھی شکریہ ادا کیا۔

(جاری ہے)

تاہم انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ کلب کرکٹ اور ڈومیسٹک کرکٹ کھیلتے رہیں گے، اور ان کی نیک خواہشات فاف ڈیوپلیسی اور جنوبی افریقی ٹیم کے ساتھ ہیں۔

واضح رہے کہ اے بی ڈی ویلیئرز کے پاس ایک روزہ کرکٹ میں تیز ترین سنچری بنانے کا اعزاز ہے اور یہ کارنامہ انہوں نے جوہانسبرگ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف جنوری 2015 ءمیں انجام دیا۔

یاد رہے کہ ون ڈے کرکٹ میں دوسری تیز ترین سنچری بنانے کا ریکارڈ نیوزی لینڈ کے کورے اینڈرسن اور تیسری تیز ترین سنچری کا ریکارڈ پاکستان کے شاہد آفریدی کے پاس ہے۔ڈیویلیئرز ون ڈے کرکٹ میں تیز ترین نصف سنچری (16بالز) اور تیز ترین 150رنز (64بالز) بنانے والے بلے باز بھی ہیں ۔ڈیویلیئرز نے جنوبی افریقہ کے لیے 114ٹیسٹ میچز میں 22سنچریوں کی مدد اور50.66کی اوسط سے 8765 رنز، 228ون ڈے میچز میں53.50کی اوسط اور25سنچریوں کی مدد سے9577رنز اور78ٹی ٹونٹی مقابلوں میں 10نصف سنچریوں کی مدد سے 1672رنز سکور کیے ۔

حال ہی میں ڈیویلیئرز نے انڈین پریمیر لیگ ((آئی پی ایل)) میں رائل چیلنجرز بنگلور کی نمائندگی کی۔ ان کی ٹیم پلے آف میں جگہ تو نہ بنا سکی مگر عمدہ کارکردگی سے وہ ایک مرتبہ پھر شائقین کے دل جیتنے میں کامیاب ہو گئے جبکہ اسی ٹورنامنٹ میں انہوں نے باﺅنڈری کے قریب ایک ہاتھ سے ایسا عمدہ کیچ پکڑا کہ انہیں ”سپائیڈر مین“ کا خطاب بھی مل گیا۔