ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں مریم نواز کا بیان قلمبند کرنے کے لیے کٹہرے میں بلائے جانے پر نواز شریف برہم

جن لوگوں نے یہ روایت قائم کی ان کو یہ سودا بہت مہنگا پڑے گا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعرات مئی 11:33

ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں مریم نواز کا بیان قلمبند کرنے کے لیے کٹہرے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 24 مئی 2018ء) :احتساب عدالت میں شریف خاندان کےخلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت ہوئی۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نیب کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کی۔ نیب کی جانب سے دائر ریفرنس میں نامزد تینوں ملزمان نواز شریف ،ان کی صاحبزادی مریم نواز اورداماد کیپٹن (ر) صفدر کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

اس موقع پر مریم نواز کو کٹہرے میں بلا کر ان کا بیان قلمبند کرنا شروع کیا گیا ، مریم نواز کو کٹہرے میں بلانے پر نواز شریف شدید برہم ہو گئے ۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہ نوبت بھی آنی تھی کہ بیٹیوں کو مقدمات میں گھسیٹا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے یہ روایت قائم کی ان کو یہ سودا بہت مہنگا پڑے گا۔ بڑی اوچھی قسم کی روایات قائم کی جا رہی ہیں، ایک باپ کی آنکھوں کے سامنے اس کی بیٹی کٹہرے میں مقدمہ بھگت رہی ہے ،میری بیٹی کا اس مقدمے سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔

(جاری ہے)

یاد رہے کہ آج سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز شریف نے ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں اپنا بیان آج قلمبند کروانا شروع کیا۔ مریم نواز نے اپنے بیان کے آغاز پر پاناما کیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اور اس کی رپورٹ پر تنقید کی اور کہا کہ جے آئی ٹی اور جے آئی ٹی رپورٹ اس کیس میں غیر متعلقہ ہیں۔ مریم نواز نے کہا کہ 2000 میں عامرعزیزبطورڈائریکٹربینکنگ کام کررہےتھے ۔

عامرعزیزکو 2000میں مشرف حکومت نےڈیپوٹیشن پرنیب میں تعینات کیا ۔بلال رسول کےرکن جے آئی ٹی بننےتک وہ پی ٹی آئی کی سپورٹرتھے۔ عامرعزیز کو جے آئی ٹی میں شامل کیا گیا۔ عامرعزیز نے مشرف کے دورمیں حدیبیہ پیپرملزکی تحقیقات کیں۔ عامرعزیز 2000 میں میرے اورخاندان کیخلاف دائر ریفرنس میں تفتیشی تھے۔ جےآئی ٹی نےشاید مختلف محکموں سے مخصوص دستاویزات اکٹھی کیں۔

بریگیڈیئرنعمان اور کامران کی جے آئی ٹی میں تعیناتی مناسب نہیں تھی ۔ عرفان منگی کی تعیناتی کا کیس سپریم کورٹ میں ابھی تک زیرالتواہے ۔ عرفان منگی کو بھی جے آئی ٹی میں شامل کردیاگیا۔ اطلاعات کے مطابق بریگیڈیئر نعمان سعید ڈان لیکس انکوائری کمیٹی کاحصہ تھے۔ ڈان لیکس کی وجہ سے سول ملٹری تناؤمیں اضافہ ہوا، ۔جے آئی ٹی میں تعیناتی کے وقت نعمان سعید آئی ایس آئی میں نہیں تھے۔

نعمان سعید کو آؤٹ سورس کیا گیا۔ انکی تنخواہ ریکارڈ سے ظاہر نہیں ہوتی۔ عدالت نے جے آئی ٹی کو اختیارات دیئے کہ قانونی درخواستوں کو نمٹایا جا سکے۔ ایسے اختیارات دینا غیرمناسب اورغیرمتعلقہ تھے۔ جےآئی ٹی کی 10والیم پر مشتمل خودساختہ رپورٹ غیرمتعلقہ تھی۔ جےآئی ٹی کی حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں دائر درخواستیں نمٹانے کیلئے تھی۔ ان درخواستوں کوبطور شواہد پیش نہیں کیا جاسکتا۔

جے آئی ٹی تفتیشی رپورٹ ہے جو ناقابل قبول شہادت ہے۔ عدالت نے جے آئی ٹی کے شواہد کی روشنی میں ریفرنس دائر کرنے کا کہا۔ عدالت نے یہ نہیں کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کو بطور شواہد ریفرنس کا حصہ بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 70سالہ سول ملٹری جھگڑے کا بھی جےآئی ٹی پراثرپڑا۔یاد رہے کہ اس سے قببل نواز شریف نے تین سماعتوں کے دوران عدالت کی جانب سے پوچھے گئے 128 سوالات کے جواب دیے۔

مریم نواز کے بیان پڑھنے کے دوران ایک دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی جب مریم نواز نے عدالت کے سامنے پڑھے جانے والے اپنے بیان میں کومہ اور فل سٹاپ بھی پڑھنا شروع کر دیا۔ جس پر احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اعتراض اُٹھایا اور کہا کہ بیان پڑھنے کے دوران کومہ اور فُل سٹاپ تو نہ پڑھیں۔ جس پر مریم نواز نے انوکھی منطق پیش کرتے ہوئے جواب دیا کہ میرے وکیل نے مجھے پڑھنے کو کہا لہٰذا میں نے پڑھ دیا۔