پیغام پہنچانے والے ماتحت ادارے کے افسر کو ملکی مفاد میں برطرف نہیں کیا ،ْنوازشریف

جمعرات مئی 13:24

پیغام پہنچانے والے ماتحت ادارے کے افسر کو ملکی مفاد میں برطرف نہیں ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) پاکستان مسلم لیگ (ن)کے قائد ،ْ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہاہے کہ پیغام پہنچانے والے ماتحت ادارے کے افسر کو ملکی مفاد میں برطرف نہیں کیا ،ْمشاہداللہ اور پرویز رشید سے استعفیٰ لینا بھی اس بردباری اور درگزر کا نتیجہ ہے ،ْہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے ،ْ معاملہ عدالت کے سامنے آیا تو بتا دیا ،ْ کوئی سمجھتا ہے کہ وہ میرے عزم کو شکست دے دیگا تو وہ بہت سخت غلط فہمی میں ہے ،ْخوشگوار حیرت ہوئی کہ گزشتہ روز میڈیا نے میرا سارا بیان دکھایا ،ْسب کو کھڑا ہونا پڑیگا اور سب کھڑے ہوں گے تو سب ممکن ہوگا۔

جمعرات کو احتساب عدالت میں صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کے دوران صحافی کے سوال ماتحت ادارے کے جس سربراہ نے آپ کو پیغام پہنچایا اس سے استعفیٰ کیوں نہیں لیا کا جواب دیتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ میں نے تحمل، درگزر، بردباری اور ہمت کا مظاہرہ کیا۔

(جاری ہے)

نواز شریف نے کہا کہ میں اس ادارے کے سربراہ کو برطرف کر سکتا تھا لیکن ملکی مفاد میں برطرف نہیں کیا اور درگزر سے کام لیا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے ،ْعدالت کے سامنے معاملہ آیا تو میں نے بتا دیا، حقائق تھے جو منظر عام پر آنا چاہیے تھے ،ْ ان مسائل نے 70سال سے ہماری جان نہیں چھوڑی۔صحافی کے سوال اگر سر جھکاکے نوکری نہیں کی تو مشاہداللہ اور پرویز رشید سے استعفیٰ کیوں لیا کا جواب دیتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ مشاہداللہ اور پرویز رشید سے استعفیٰ لینا بھی اس بردباری اور درگزر کا نتیجہ ہے۔

صحافی نے ایک اور سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ آپ کی نااہلی تاحیات ہوگئی ،ْپارٹی صدارت سے ہٹا دیا ،ْمزید آپ سے کیا چاہتے ہیں اس پر نواز شریف نے کہا کہ جنہوں نے یہ فیصلے کیے ان سے پوچھیں وہ کیا چاہتے ہیں نواز شریف نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے قائد اعظم کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوا ،ْپاکستان بنانے کا مقصد کوئی اور تھا ،ْکسی اور سمت جارہے ہیں، پچھلے 70سال میں خود اپنا مذاق بنایا ہوا ہے اور ہم دنیا میں لافنگ اسٹاک بن گئے ہیں۔

نواز شریف نے مریم نواز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک یہ تصویر پیش کر رہا ہے کہ بچوں سمیت کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے، کوئی پوچھے گا کہ ان کا کیا قصور ہی اس موقع پر مریم نواز نے کہا کہ میں نے عدالت کو بتایا جب گلف اسٹیل مل کی بنیاد رکھی گئی تو میں صرف ایک سال کی تھی جس پر نواز شریف نے کہا کہ جب یہ ایک سال کی تھی تو اس بات کی اکائونٹیبلٹی بھی ہورہی ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ میرے عزم کو شکست دے دیگا تو وہ بہت سخت غلط فہمی میں ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ خوشگوار حیرت ہوئی کہ گزشتہ روز میڈیا نے میرا سارا بیان دکھایا ،ْسب کو کھڑا ہونا پڑیگا اور سب کھڑے ہوں گے تو سب ممکن ہوگا۔ نواز شریف نے کہا کہ میڈیا کا حق ہے کہ وہ یہ سب دکھائے، میڈیا اپنے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے نہ پڑنے دے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف نے کہا کہ میری بیٹی کا دور دور سے سیاست سے تعلق نہیں تھا لیکن یہ نوبت بھی آنی تھی کہ بیٹی کو مقدمات میں گھسیٹا گیا، باپ کی آنکھوں کے سامنے بیٹی کٹہرے میں جا کر مقدمہ بھگت رہی ہے، بیٹی کا دور دور سے اس کیس سے واسطہ نہیں، جس زمانے کا مقدمہ بھگت رہے ہیں اس زمانے سے مریم کا تعلق نہیں، گلف اسٹیل سے متعلق مریم سے پوچھ رہے ہیں وہ اس وقت ایک سال کی تھی یہ اوچھی روایت ڈالی گئی ہے ، جنہوں نے یہ روایت شروع کی ہے انہیں یہ سودا مہنگا پڑے گا۔