حکومت پاکستان کا زرِ مبادلہ کے ذخائر میں کمی اور مالی خسارے کے پیشِ نظر ایک بار پھر غیر ملکی قرضہ لینے کا فیصلہ

کروڑ ڈالر کا یہ قرض پاکستان کے پہلے سے لیے گئے قرضوں کی دوبارہ ادائیگی میں مدد فراہم کرے گا ،ْ مفتاح اسماعیل

جمعرات مئی 17:01

حکومت پاکستان کا زرِ مبادلہ کے ذخائر میں کمی اور مالی خسارے کے پیشِ ..
دبئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) حکومت پاکستان نے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں کمی اور مالی خسارے کے پیشِ نظر ایک بار پھر غیر ملکی قرضہ لینے کا فیصلہ کرلیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے 3 بینکوں سے لیا جائے گا، اس سلسلے میں بینکنگ معاملات سے وابستہ ذرائع کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان نے 20 کروڑ ڈالر کا غیر ملکی قرض لینے کا قدم ادائیگیوں کے توازن پہ پڑنے والے دباؤ کو کم کرنے کیلئے اٹھایا ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ ایک سال کی ضمانت پر دیا جانے والا یہ قرضہ کمرشل بینک آف دبئی،، ایمریٹس این بی ڈی اور نور بینک فراہم کریں گے۔واضح رہے کہ زرِ مبادلہ کے ذخائر کی کمی کو متوازن کرنے اور مالی خسارے کو کم کرنے کے لیے پاکستان کو فنڈنگ کی ضرورت ہے، اسی تناظر میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطابق پاکستان کا مالی خسارہ مجموعی ملکی پیداوار کا 5.5 فیصد ہے۔

(جاری ہے)

اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کا کہنا تھا کہ 20 کروڑ ڈالر کا یہ قرض پاکستان کے پہلے سے لیے گئے قرضوں کی دوبارہ ادائیگی میں مدد فراہم کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ رقم خزانے میں اضافے کے لیے حاصل کررہے ہیں جیسا کہ ہم نے مختلف اداروں کو ادائیگیاں کی ہیں اس لیے ہمیں اپنے خزانے میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔

مفتاح اسمٰعیل کا کہنا تھا کہ آئندہ ہفتوں میں یہ قرض 35 کروڑ ڈالر تک جاسکتا ہے اور اس کے بعد حکومت اتنی ہی مالیت کی پاکستانی کرنسی متروک کردے گی۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے لیے گئے قرضے کی نوعیت تبدیل ہوگی تاہم مجموعی طور پرقرض میں اضافہ نہیں ہوگا، تینوں اماراتی بینکوں کی جانب سے دیگ قرض دہندگان کو بھی تجارتی قرضے کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔