ٹیلی فون انڈسٹریز آف پاکستان کے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کردی گئی ہے‘

جوائنٹ سیکرٹری کے نہ ہونے سے دو ہفتوں کی تاخیر ہوئی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان کا قومی اسمبلی میں توجہ مبذول نوٹس پر جواب

جمعہ مئی 12:44

ٹیلی فون انڈسٹریز آف پاکستان کے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کردی ..
اسلام آباد۔ 25 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ ٹیلی فون انڈسٹریز آف پاکستان کے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کردی گئی ہے‘ جوائنٹ سیکرٹری کے نہ ہونے سے دو ہفتوں کی تاخیر ہوئی تھی‘ ٹی آئی پی کی تباہی میں اس کے ملازمین نے اہم کردار ادا کیا‘ ٹی آئی پی سے غیر قانونی طور پر نجی ہائوسنگ سوسائٹیوں کو بجلی کا کنکشن فراہم کیا گیا جس کا ایک کروڑ سے زائد کا غیر قانونی بل ادارے نے ادا کیا ہے۔

جمعہ کو قومی اسمبلی میں شیخ صلاح الدین‘ سید وسیم حسین‘ سید رضا عابدی‘ ڈاکٹر نگہت شکیل خان اور عبدالوسیم کے توجہ مبذول نوٹس پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان نے ایوان کو بتایا کہ جوائنٹ سیکرٹری ایم ڈی ٹی آئی پی ہوتا ہے۔ جائنٹ سیکرٹری کے نہ ہونے سے دو ہفتوں کا گیس آیا تاہم تنخواہیں 17 مئی سے ٹرانسفر ہو چکی ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ جوائنٹ سیکرٹری کے نہ ہونے سے یہ ایشو سامنے آیا ہے ورنہ ہر ماہ کے آغاز میں تنخواہ وقت پر دی جاتی ہے۔

شیخ صلاح الدین کے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ میرے پاس وزارت سے جو معلومات آئی ہیں کہ تنخواہیں 17 مئی کو ملازمین کے اکائونٹس میں منتقل ہوئی ہیں۔ تنخواہ میں اضافہ سے متعلق ہم نے وزارت خزانہ سے رابطہ کیا تھا۔ 2015-16ء کو تنخواہوں میں ہونے والا اضافہ بھی ملازمین کو دلایا گیا ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ٹی آئی پی ایسا ادارہ ہے جس نے خود کو کھا لیا ہے۔

ملازمین نے اس کی تباہی میں کردار ادا کیا ہے۔ ہم نے سخت ایکشن لیا‘ ٹی آئی پی سے بجلی کا کنکشن ناجائز طریقے سے ایک پرائیویٹ ہائوسنگ سوسائٹی کو دیا گیا۔زمین کی چائنا کٹنگ کی گئی اور زمین پر قبضہ کیا۔ ایک ہی خاندان سے کئی کئی افراد ملازم بھرتی ہوتے ہیں۔ اب صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ایک سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ ادارے کے حالات کو ٹھیک کرنے میں دو سال لگے ہیں۔ اراکین اس ایشو کو صرف ایک پہلو سے دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آئی پی کی پی ٹی سی ایل کے ساتھ نجکاری نہیں ہوئی تھی۔