نوازشریف کی بھیرہ جلسے میں عدم شرکت کی وجوہات سامنے آگئیں

نوازشریف نے جلسے میں عوام کی کم تعداد اورتسلی بخش انتظامات نہ ہونے کے باعث شرکت نہیں کی،جبکہ کیپٹن رصفدر نے بتایا کہ نوازشریف کے ہیلی کاپٹرمیں فنی خرابی پیدا ہوگئی ہے۔میڈیا رپورٹس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ مئی 16:52

نوازشریف کی بھیرہ جلسے میں عدم شرکت کی وجوہات سامنے آگئیں
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔26 مئی 2018ء) : پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف کے بھیرہ میں عوامی جلسے میں نہ جانے کی وجوہات سامنے آگئیں، نوازشریف نے جلسے میں عوام کی کمی اور تسلی بخش انتظامات نہ ہونے کے باعث بھیرہ جانے کا دورہ منسوخ کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے گزشتہ روز بھیرہ میں عوامی جلسے سے خطاب کرنا تھا۔

تاہم اس وقت جلسے میں موجود شرکاء کی خوشی مایوسی میں بدل گئی جب کیپٹن ر صفدر نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے لوگوں کو احساس دلایا کہ نوازشریف اور مریم نواز جلسے میں نہیں آسکیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ نواز شریف کے ہیلی کاپٹر میں فنی خرابی پیدا ہوگئی ہے۔ جس کے باعث وہ جلسے میں نہیں پہنچ سکیں گے۔

(جاری ہے)

کیپٹن ر صفدر کے اعلان کے ساتھ ہی اس موقع پرجلسے میں شریک کارکنان نے جلسہ گاہ سے واپس گھروں کو جانا شروع کردیا۔

دوسری جانب ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نوازشریف نے جلسے میں لوگوں کی کم تعداد کو دیکھ کرجلسے نہ جانے کا فیصلہ کیا۔سرگودھا کے علاقے بھیرہ میں ن لیگ کا جلسہ وزیرمملکت برائے مذہبی امور پیر امین الحسنات اور ان کے بھائی پیر بہاوالحق شاہ نے منعقد کروایا تھا۔ جو کہ آئندہ الیکشن میں مسلم لیگ ن کے این اے 88 میں امیدوار بھی ہیں۔ن لیگ کے ارکان اسمبلی اور کارکنان کی جانب سے جلسے کے انتظامات کیلئے خطیر رقم خرچ کی گئی تھی۔

جلسے میں انتظامات اور لوگوں کی افطاری کا بندوبست بھی کیا گیا تھا۔تاہم جب ن لیگ قائد نوازشریف نے جلسے میں مختلف ٹی وی چینلز پر خالی کرسیاں دیکھیں اور ان کووہاں موجود لوگوں نے بھی رپورٹ دی کہ جلسے میں لوگوں کی تعداد انتہائی کم ہے جس کے باعث نوازشریف نے جلسے سے خطاب کا فیصلہ مئوخر کردیا۔ تاہم جلسے کے شرکاء کو کیپٹن رصفدر نے اپنے خطاب میں بتایا کہ نوازشریف کا ہیلی کاپٹرفنی خراب کے باعث خراب ہوگیا ہے جس کے باعث نوازشریف کا دورہ منسوخ کردیا گیا ہے۔واضح رہے بھیرہ میں ن لیگ کی قیادت کو خبردار کیا گیا ہے کہ آئندہ جلسہ منعقد کرنا ہوتو جلسے میں لوگوں کی مناسب تعداد ہونی چاہیے۔جس سے جلسہ عوامی جلسہ لگے نہ کہ جلسہ کارنرمیٹنگ کا منظر پیش کررہا ہو۔