سانحہ ماڈل ٹائون : ایس پی طارق عزیز پر عوامی تحریک کے وکلاء کی جرح

ایس پی طارق عزیز کے 161کے بیان اور عدالت میں دئیے گئے بیان میں تضاد ہے،وکلاء عوامی تحریک ڈی آئی جی رانا عبد الجبار26مئی کی آخری مہلت پر بھی اے ٹی سی میں پیش نہیں ہوئے

ہفتہ مئی 21:40

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 مئی2018ء) انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں سانحہ ماڈل ٹائون کے حوالے سے پولیس کی درج کی گئی ایف آئی آر کے گواہ ایس پی طارق عزیز پر عوامی تحریک کے وکلاء نے جرح کی،ایس پی طارق عزیز نے جرح کے دوران کہا کہ وہ 17جون 2014 کے دن ماڈل ٹائون میں موجود تھے اور وہ گولی لگنے سے زخمی ہوئے اس کے باوجود وہ وہاں کمانڈ کرتے رہے ۔

بعد ازاں وہ ایمبو لینس میں لیٹ گئے اورکسی نے بتایا کہ عوامی تحریک کے کارکنان کی طرف سے پتھرائو کیا گیا۔۔سماعت کے بعد عوامی تحریک کے وکیل رائے بشیر احمد ایڈووکیٹ نے مستغیث جواد حامد،نعیم الدین چوہدری ایڈووکیٹ،سردار غضنفر ایڈووکیٹ،ایم ایچ شاہین ایڈووکیٹ کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ حیرت ہے کہ ایس پی طارق عزیز زخمی ہونے کے باوجود موقع پر موجود رہے انہوں نے یہ بھی جرح کے دوران اعتراف کیا کہ ڈی آئی جی رانا عبد الجبار بھی موقع پر موجود تھے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ ایس پی طارق عزیز کے پولیس کو دئیے گئے دفعہ 161 کے بیان اور عدالت کے اندر دئیے گئے بیان میں جگہ جگہ تضاد ہے۔جواد حامد نے کہاکہ یہ وہی ایس پی طارق عزیز ہیں جنہوں نے گلو بٹ کو عوامی املاک کی توڑ پھوڑ اور دہشت پھیلانے پر گلے سے لگایا اسے شاباش دی اور پولیس کی ایک بڑی نفری گلو بٹ کی قیادت میں دہشت پھیلانے کیلئے بھیجی۔انہوں نے کہاکہ ہمیں افسوس کہ پنجاب پولیس میں ایسے افسر بھی ہیں جو جرائم پیشہ عناصر کو پولیس نفری کا کمانڈر بناتے ہیںا ور ان سے عوامی املاک کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ پولیس کی لاقانونیت کا ہم نے پردہ چاک کیا لیکن دکھ ہے لاقانونیت پھیلانے اور قومی ادارے کا وقار خاک میں ملانے والے طارق عزیز جیسے پولیس افسر ابھی تک محکمے میں اہم عہدوں پر فائز ہیں۔نعیم الدین چوہدری ایڈووکیٹ نے کہاکہ ڈی آئی جی رانا عبد الجبار کے وکلاء نے انسداد دہشتگردی عدالت کو تحریری طور پر لکھ کر دیا تھا کہ رانا عبد الجبار 18مئی کو ہر حالت میں کورٹ میں پیش ہوجائینگے لیکن وہ پیش نہیں ہوئے انہیں مزید 26مئی تک پیش ہونے کی مہلت دے دی گئی تھی لیکن ہو پھر بھی پیش نہیں ہوئے انہوں نے کہا کہ دیکھتے ہیں عدالت خود سر اور ملزم ڈی آئی جی کے بارے کیا قانونی کارروائی عمل میں لاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹائون کا اہم ملزم ٹرائل میں حاضر نہ ہو کر قانون اور انصاف کے عمل کا مذاق اڑا رہا ہے ۔مزید سماعت 28 مئی سوموار کو ہو گی۔