ماہرین زراعت کی کاشتکاروں کو دھان کی صرف منظورشدہ اقسام ہی کاشت کرنے کی ہدایت

اتوار مئی 13:10

فیصل آباد۔27 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) ماہرین زراعت نے کاشتکاروں کو دھان کی صرف منظورشدہ اقسام ہی کاشت کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہاہے کہ بہترین پیداوار کے حصول کیلئے کاشتکار دھان کی منظور شدہ باسمتی اقسام سپر باسمتی ،پی ایس2، باسمتی385، باسمتی 2000 ،باسمتی515، با سمتی370،باسمتی پاک ،شاہین باسمتی اورباسمتی198(صرف ساہیوال، اوکاڑہ اور ملحقہ علاقوں کیلئی)،ہائبرڈ اقسام میںوائے 26،پرائیڈ1 ،شہنشاہ 2،پی ایچ بی 71،پی کی386 اورنیاب2013جبکہ موٹی اقسام میںکے ایس282 ،نیاب اری9 ،اری 6،کے ایس کے 133 اورکے ایس کی434 کی کاشت یقینی بنائیں تاکہ انہیں بمپر کراپ حاصل ہو سکے نیز اچھی پیداوار کے حصول کیلئے خالص، صحت مند اور بیماریوں سے محفوظ بیج کا ہونا بھی انتہائی ضروری ہے تاہم کاشتکار کمبائن سے کاٹی ہوئی فصل کا بیج استعمال نہ کریں بلکہ ہاتھ سے کاٹی ہوئی فصل کا بیج استعمال کریں۔

(جاری ہے)

ایک ملاقات کے دوران انہوںنے کہاکہ صوبہ پنجاب میں دھان کی فصل کی پنیری کی کاشت کیلئے کدو کا طریقہ ،خشک طریقہ یا راب کا طریقہ رائج ہے اس لئے کاشتکار کدو کے طریقہ میں بیج کو نمکین پانی میں بھگوئیںاور چار گیلن یا 18 لیٹر پانی میں 450گرام خوردنی نمک ڈال کر ہلائیں اس طرح ناقص اور ہلکا بیج اوپر آ جائے گالہٰذا اسے نتھارلیںاور بعد ازاں بیج کو پانی سے دھوکر صاف کرلیںنیز بیج سے نمک صاف کرنے کے بعد بیج کو 24گھنٹے پانی میں بھگو لیں اور انگوری مارنے کیلئے بیج سایہ دار جگہ پر چھوٹی چھوٹی ڈھیریوں یعنی 15سی20 کلو گرام فی ڈھیری رکھیں اور گیلی بوریوں سے ڈھانپ دیں اس طریقہ کو دبو دینا کہتے ہیں۔

انہوںنے کہاکہ کاشتکار زیادہ گرمی سے بچانے کیلئے بیج کو دن میں دو تین مرتبہ ہلائیں اور اس پر پانی کے چھینٹے ماریںتاکہ بیج خشک نہ ہو جائے۔علاوہ ازیں بیج 36سے 48گھنٹے میں انگوری مارے گا اس لئے بیج پر ڈھانپنے والی بوری کو بھی گیلا رکھیںاور کھیت میں پنیری کاشت کرنے سے پہلے ایک دو دفعہ خشک ہل چلائیں اور پھر اسے پنیری بونے سے 3دن پہلے پانی سے بھر دیںپھر کھڑے پانی میں دوہراہل چلائیں اور سہاگہ دیں۔

انہوںنے کہاکہ پنیری کیلئے کھیت تیار کرنے کے بعد اس کو دس دس مرلے کے چھوٹے پلاٹوں میں تقسیم کر دیںاور اب کھیت میں انگوری مارے ہوئے بیج کا چھٹہ دیں نیز چھٹہ دیتے وقت کھیت میں ایک تا ڈیڑھ انچ پانی کھڑا ہونا چاہئے اوربیج کا چھٹہ شام کے وقت بہتر رہتا ہے۔انہوںنے کہاکہ کاشتکار اگلی شام پانی نکال دیں اور صبح دوبارہ پانی لگا دیں اور ایک ہفتہ بعد یہ عمل بند کردیں۔

انہوںنے کہاکہ پنیری کا قد بڑھنے پر پانی کی گہرائی بڑھا دیں لیکن پانی کی گہرائی تین انچ سے زیادہ نہ ہو۔ انہوں نے کہاکہ اری اقسام کا ایک کلوگرام فی مرلہ اور باسمتی کا 500سے 750 گرام فی مرلہ انگوری مارا ہوا بیج شام کے وقت بکھیر دیں اس طریقہ سے 25 سے 30دن میں پنیری تیار ہو جائے گی اور اگر پنیری کمزور ہو تو یوریا ایک پائو (250گرام) یا کیلشیم امونیم نائٹریٹ (400 گرام) فی مرلہ کے حساب سے چھٹہ دیں۔

انہوںنے کہاکہ کھاد کا چھٹہ لاب کی منتقلی سے تقریباً دس دن پہلے کریںاور اگر لاب لگانے کا رقبہ زیادہ ہو تو پنیری ہفتہ دس دن کے وقفہ سے قسطوں میں کاشت کریں تاکہ پنیری منتقلی کے وقت زیادہ عمرکی نہ ہو جائے۔ انہوںنے کہاکہ خیال رہے کہ ایک دفعہ کاشت کی ہوئی پنیری 30 سی40 دن تک ہر حالت میں منتقل ہو جائے کیونکہ یہ اس لئے بھی ضرور ی ہے تاکہ پنیری کی منتقلی کا دورانیہ لمبے عرصے پر محیط نہ ہو تاہم پنیری کی منتقلی آخر جولائی تک مکمل کر لینی چاہئے۔

متعلقہ عنوان :