ضلع ملیر میں نیشنل ہائی وے کو موٹر وے M9 سے ملانے والے 14 کلومیٹر پر مشتمل لنک روڈ پر غیر قانونی ٹول پلازہ کا انکشاف

لنک روڈ سے گزرنے والی چھوٹی بڑی گاڑیوں سے روزانہ دس سے بارہ لاکھ روپے ٹول کی مد میں غیر قانونی وصول کیا جا رہا ہے روزانہ لاکھوں روپے سرکاری رسید پر ٹول ٹیکس میں لینے کے باوجود ایک روپیہ بھی سرکاری خزانے میں جمع نہیں کرایا جاتا، ذرائع کا دعویٰ

اتوار مئی 21:30

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) ضلع ملیر میں نیشنل ہائی وے کو موٹر وے M9 سے ملانے والے 14 کلومیٹر پر مشتمل لنک روڈ پر غیر قانونی ٹول پلازہ کا انکشاف ہوا ہے۔ اس کے قانونی ہونے کے حوالے سے متعلقہ وزیر اور محکمے کے اعلی عملداروں سے سے موقف کے لئے رابطہ کیا گیا تو محکمہ ورکس اینڈ سروسز کے وزیر امداد پتافی، سیکریٹری اعجاز میمن اور دوسرے اعلی عملداروں کی جانب سے موقف دینے سے انکار کردیا گیا۔

ٹول پلازہ سے متعلق سوال پر اعجاز میمن پریشان ہوگیا۔سیکریٹری اعجاز میمن نے بتایا کہ ٹول کے متعلق کاغذات کچھ دنوں بعد دے سکتا ہوں۔ یہ ٹول پلازہ چیف انجینئر طفیل پلیجو کے ماتحت چل رہا ہے آپ ان سے رابط کریں۔اعجاز میمن کے کہنے پر جب طفیل پلیجو سے فون پر رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں اس ٹول پلازہ کے متعلق کچھ معلوم نہیں۔

(جاری ہے)

اس کے بعد اعجاز میمن نے ملاقات تو دور کی بات فون پر بات کرنے اور موقف دینے سے بھی انکار کردیا۔

ڈپٹی سیکریٹری ورکس اینڈ سروسز ایس ایم خالد ہدا کے مطابق اس ٹول پلازہ کے متعلق آپ کو کوئی بھی موقف نہیں دے گا۔ صوبائی وزیر امداد پتافی سے فون پر مؤقف لیا گیا تو سوال سنتے ہی موصوف نے فون بند کردیا اور دوبارہ فون سننے اور میسیج کا جواب دینے کی زحمت تک گوارہ نہیں کی۔ میڈیا کی ٹیم کوریج کے لیے ٹول پلازہ پر پہنچی تو وہاں پر موجود غنڈوں کی جانب سے خبر چلانے کی صورت میں خطرناک نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔

ٹول پلازہ کے منیجر جمال جسکانی نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ جو کرنا ہے کر لو ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ علاقہ مکینوں نے ٹول پلازہ کے خلاف شکایتوں کے انبار لگا دیے۔ علاقہ مکینوں کے مطابق ان ٹول پلازہ والوں نے ہماری زندگی اجیرن کردی ہے۔ اپنے گھروں کو جانے پر بھی ٹول ٹیکس لیا جاتا ہے۔ نہ دینے والوں کے ساتھ وہاں موجود غنڈے مار پیٹ کرتے ہیں اور گاڑیوں کو روک لیتے ہیں۔

ڈرائیورز کے مطابق صرف 14 کلومیٹر کے فاصلے پر مشتمل، چھوٹی اور جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار اس سڑک پر ٹول ٹیکس لینا سراسر نا انصافی اور ظلم ہے۔ ذرائع کے مطابق غیر قانونی ٹول پلازہ شروعاتی طور پر یو سی درسانو چھنو کی طرف سے قائم کیا گیا۔روزانہ کی لاکھوں روپے کی اندھی کمائی دیکھ کر اس ٹول پلازہ پر قبضے کی جنگ شروع ہوئی۔ ایک دوسرے سے طاقتور محکمے اس پر قابض ہوتے چلے گئے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ یونین کونسل درسانو چھنو سے طاقت میں زیادہ ڈی ایم سی ملیر نے اس کو اپنے قبضے میں کیا۔ جبکہ ڈی ایم سی ملیر سے طاقتور محکمہ ورکس اینڈ سروسز نے اس پر قبضہ کرلیا جو ابھی تک جاری ہے۔محکمہ ورکس اینڈ سروسز نے اپنے خاص کارندوں کو بٹھادیا جو ایمانداری سے سب کو اپنا حصہ پہنچاتے ہیں۔ٹول پلازہ سندھ حکومت کے محکمہ ورکس اینڈ سروسز کے ماتحت اور سندھ کی با اثر سیاسی شخصیات کی سرپرستی میں چل رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ ٹول پلازہ سے سندھ کے با اثر سیاسی اور حکومتی شخصیات کو باقاعدگی سے بھتا جا رہا ہے۔2016 میں بھی محکمہ ورکس اینڈ سروسز نے نیشنل ہائی وے پر مکلی کے نزدیک جعلی ٹول پلازہ قائم کیا تھا۔مکلی والے ٹول پلازہ پر وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے چھاپا مر کر رکارڈ ضبط کرلیا تھا اور کمشنر حیدرآباد کو فوری طور پر اس ٹول پلازہ کو اکھاڑنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

اس موقع پر مراد علی شاہ نے امداد پتافی پر سخت ناراضگی کا اظہار بھی کیا تھا۔با اثر افراد کا اس میں ملوث ہونے کی وجہ سے آج تک اس فراڈ ٹول پلازہ قائم کرنے میں ملوث حکام کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ لنک روڈ سے گزرنے والی چھوٹی بڑی گاڑیوں سے روزانہ دس سے بارہ لاکھ روپے ٹول کی مد میں غیر قانونی وصول کیا جا رہا ہے۔ضلع ملیر کے کچھ با اثر شخصیات کو بھی اس غیر قانونی لوٹ کھسوٹ کا حصہ پہنچایا جا رہا ہے۔ روزانہ لاکھوں روپے سرکاری رسید پر ٹول ٹیکس میں لینے کے باوجود ایک روپیہ بھی سرکاری خزانے میں جمع نہیں کرایا جاتا۔نیب اور اعلی عدالتوں کو اس میگا فراڈ کا نوٹس لے کر اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانی چاہیے۔

متعلقہ عنوان :