نگران وزیر اعظم منتخب ہونیوالے کیلئے بڑی شرط عائد کر دی گئی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر مئی 12:34

نگران وزیر اعظم منتخب ہونیوالے کیلئے بڑی شرط عائد کر دی گئی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 28 مئی 2018ء) :  حکومت کی مدت اکتیس مئی کو ختم ہو رہی ہے اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے تاحال نگران وزیراعظم کے عہدے کے لیے کسی نام کو فائنل نہیں کیا۔ دوسری جانب نگران حکومت کے لیے کئی معیار بھی رکھے جا رہے ہیں۔ جیسے کہ نگران حکومت میں شامل ہونے والوں کے لیے نیب کلئیرنس کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔

اب نگران وزیر اعظم اور نگران وزیر اعلیٰ کون ہو گا؟اس فیصلے میں احتساب ادارہ بھی شراکت دار بن گیا ہے۔ قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق نگران وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کی تعیناتی سے قبل ناموں کی نیب کلئیرنس کروائی جائے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ قومی احتساب بیورو نے کہا ہے کہ نگران حکومت کا حصہ بننے والوں کے ناموں کی پہلے چھان بین ضروری ہے ، ان ناموں سے متعلق تحقیقات کی جائیں گی کہ آیا ان کے خلاف نیب میں کوئی انکوائری یا مقدمہ تو نہیں چل رہا ، نیب کے مطابق چاروں صوبوں کے نئے چیف سیکرٹریز کی بھی چھان بین کی جائے گی۔

(جاری ہے)

خیال رہے کہ موجودہ حکومت کی مدت اکتیس مئی کو ختم ہو رہی ہے جس کے بعد ملک میں نگران سیٹ اپ آئے گا اور نگران سیٹ اپ کی زیر نگرانی ہی ملک میںعام انتخابات کروائے جائیں گے۔ صدر مملکت ممنون حسین نے 25جولائی کو عام انتخابات کروانے کی منظوری دے دی ہے۔ دوسری جانب نیب کی جانب سے نگران وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کی چھان بین اس لیے ضروری قرار دی جا رہی ہے تاکہ پتہ لگایا جا سکے کہ آیا نگران وزیر اعظم میں شامل ہونے والا کوئی لیڈر کرپشن کا بدعنوانی میں تو ملوث نہیں ہے، سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیب کی کلئیرنس کے بعد ملک میں شفاف انتخابات کو یقینی بنایا جائے گا اور کوئی انتخابات کے نتائج میں نگران حکومت یا اس میں شامل عہدیداروں کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکے گا کیونکہ نگران حکومت میں شامل افراد کو نیب کلئیرنس حاصل ہو گی۔