جنرل اسد درانی کے انکشافات نہایت سنگین ‘ان کی قسمت کا فیصلہ جی ایچ کیو نہیں

پارلیمنٹ کریگی‘سپریم کورٹ کا 28جولائی کا فیصلہ تاریخ میں زندہ رہے گا‘ اس کے حقائق آج نہیں تو کل عوام کے سامنے آجائیں گے‘ ڈان اخبارکی کچھ علاقوں میں بندش قابل مذمت ہے، ڈان اخبار والے اگر قائد اعظم کی تصویر کے ساتھ فیلڈ مارشل کی تصویر اخبار میںلگانا شروع کر دیں تو ان پر ساری پابندیاں ختم ہو سکتی ہیں مسلم لیگ(ن) کے رہنما کیپٹن(ر)صفدر کی پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو

بدھ مئی 22:34

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما کیپٹن(ر)صفدر نے کہا ہے کہ جنرل اسد درانی کے انکشافات نہایت سنگین ہیں ‘ان کی قسمت کا فیصلہ جی ایچ کیو نہیں پارلیمنٹ کرے گی‘سپریم کورٹ کا 28جولائی کا فیصلہ تاریخ میں زندہ رہے گا ، اس کے حقائق آج نہیں تو کل عوام کے سامنے آجائیں گے‘ اس پارلیمنٹ کی سب سے بڑ ی کامیابی سائبر کرائم کا بل پاس کرناہے‘ڈان اخبارکی کچھ علاقوں میں بندش قابل مذمت ہے، ڈان اخبار والے اگر قائد اعظم کی تصویر کے ساتھ فیلڈ مارشل کی تصویر اخبار میںلگانا شروع کر دیں تو ان پر ساری پابندیاں ختم ہو سکتی ہیں۔

وہ بدھ کو پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے یہ 5سال بہت یادگار رہے ہیں، خاص کر 28جولائی کا دن کبھی نہیں بھولے گا جب ایک منتخب وزیر اعظم کو اقامے کی بنیاد پر نکال دیا گیا۔

(جاری ہے)

سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ تاریخ میں زندہ رہے گا اور اس کے حقائق آج نہیں تو کل عوام کے سامنے آجائیں گے۔ پارلیمنٹ کے اندر ہم نے بہت سے تاریخی کام کیے ہیں لیکن سائبر کرائم کا بل پاس کرنا اس پارلیمنٹ کی سب سے بڑ ی کامیابی اور عوام پر بڑا احسان ہے۔

اس بل کے پاس ہونے سے معاسرے کے اندر سے بے حیائی کا خاتمہ ہوا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) نے جتنے منصوبے 5سال میں شروع کیے اتنی65سال میں بھی نہیں شروع کیے گئے۔ اگر ہمارے خلاف فیصلہ نہ آتا تو ان منصوبوں کا بہت پہلے افتتاح ہو جاتا۔ ہم نے 5سالہ دور میں سازشوں کا سامنا بھی کیا اور عوام کی فلاح کیلئے منصوبے بھی شروع اور مکمل کیے ۔ڈان اخبار کی کچھ خبروں کے باعث ان کی اخبار پر بہت سے علاقوں میں پابندی لگائی ہوئی ہے جو قابل مذمت ہے۔

ڈان اخبار والے اگر اخبار میں قائد اعظم کی تصویر کے ساتھ فیلڈ مارشل کی تصویر لگانا شروع کر دیں تو ان پر ساری پابندیاں ختم ہو سکتی ہیں ۔ جنرل اسد درانی نے اپنی کتاب میں جو انکشافات کیے ہیں وہ نہایت سنگین ہیں ان کی صرف جی ایچ کیو میں وضاحت کافی نہیں ہے۔ پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے اور جنرل درانی کی قسمت کا فیصلہ جی ایچ کیو نہیں پارلیمنٹ کرے گی