اصغر خان کیس، سپریم کورٹ کا اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کی عدم پیشی پر اظہار برہمی

حکومت ایک ذیلی کمیٹی بنا کر بھاگ گئی،وفاقی کابینہ نے اصغر خان کیس عملدرآمد کے معاملے پر کوئی فیصلہ نہیں کیا، کئی سالوں سے یہ کیس پڑا ہے، کیا کابینہ کا یہ کام ہوتا ہی ، چیف جسٹس ثاقب نثار کے ریمارکس

جمعہ جون 14:50

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2018ء) چیف جسٹس ثاقب نثار نے اصغر خان کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کی عدم پیشی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی کابینہ نے اصغر خان کیس عملدرآمد کے معاملے پر کوئی فیصلہ نہیں کیا، کئی سالوں سے یہ کیس پڑا ہے، کیا کابینہ کا یہ کام ہوتا ہی ، حکومت ایک ذیلی کمیٹی بنا کر بھاگ گئی۔ جمعہ کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی خصوصی بینچ نے لاہور رجسٹری میں اصغر خان فیصلے پر عملدرآمد کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل عدالت میں پیش نہیں ہوئے، ان کی جگہ ڈپٹی اٹارنی جنرل کمرہ عدالت میں موجود تھے۔۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ گزشتہ روز کابینہ کے اجلاس میں کیا فیصلہ ہوا ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ کابینہ نے مثبت فیصلہ کرلیا ہے اور اٹارنی جنرل پیش ہوکر عدالت کو آگاہ کریں گے۔

(جاری ہے)

اشتر اوصاف کے پیش نہ ہونے پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 'اتنا اہم کیس لگا ہوا ہے، لیکن اٹارنی جنرل کو پروا نہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ وفاقی کابینہ نے اصغر خان کیس عملدرآمد کے معاملے پر کوئی فیصلہ نہیں کیا، کئی سالوں سے یہ کیس پڑا ہے، کیا کابینہ کا یہ کام ہوتا ہی ساتھ ہی جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ایک سب(ذیلی) کمیٹی بنا کر حکومت بھاگ گئی۔۔سماعت کے بعد عدالت عظمی نے اٹارنی جنرل پاکستان اشتر اوصاف کو (آج) 2 جون کو طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔